October 31, 2026

سکھر ڈویژن میں جنگلی پرندوں کے غیر قانونی شکار اور پکڑنے پر 90 روز کی پابندی عائد

IMG-20261031-WA0183

سکھر ڈویژن میں جنگلی پرندوں کے غیر قانونی شکار اور پکڑنے پر 90 روز کی پابندی عائد
کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے دفعہ 144 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کردیا، خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر ڈویژن میں جنگلی پرندوں کے غیر قانونی شکار، انہیں پکڑنے اور پھندے لگانے پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت پابندی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کا اطلاق سکھر، خیرپور، گھوٹکی اور میرپور ماتھیلو سمیت متعلقہ علاقوں میں ہوگا۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کے دوران جنگلی پرندوں کا شکار کرنے، انہیں پکڑنے، مختلف مقامات پر پھندے لگانے اور غیر قانونی فائرنگ کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا، نایاب پرندوں کی نسلوں کو معدوم ہونے سے بچانا اور قدرتی ماحول میں پرندوں کی بقا کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ پولیس افسران کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف شکایات درج کرائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنائیں۔محکمہ اطلاعات کے مطابق جنگلی پرندوں کا غیر قانونی شکار اور انہیں پکڑنے کے عمل سے قدرتی ماحول کا توازن متاثر ہوتا ہے، جبکہ نایاب پرندوں کی نسلوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں جنگلی حیات کے تحفظ اور پرندوں کی نسلوں کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے یہ اہم اقدام اٹھایا گیا ہے۔حکام کی جانب سے شہریوں، شکاریوں اور متعلقہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پابندی پر عملدرآمد کریں اور جنگلی پرندوں کے غیر قانونی شکار سے اجتناب کریں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔