نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے، ڈاکٹر ایم لال واگھانی
نوجوانوں کو منشیات اور جرائم سے بچانے کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے، ڈاکٹر ایم لال واگھانی
عمرکوٹ، کنری، سامارو اور پتھورو میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں اور منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
عمرکوٹ (پریس ریلیز): سیکریٹری جنرل، صوبہ سندھ مینارٹی ونگ، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ جنیوا پاکستان، ایڈووکیٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع عمرکوٹ، بالخصوص عمرکوٹ، کنری، سامارو اور پتھورو کے نوجوانوں کو منشیات، جرائم اور دیگر سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کھیلوں کا فروغ اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ اور ملک و قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینا، انہیں صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور منشیات و جرائم سے محفوظ رکھنا حکومت، انتظامیہ، پولیس، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے کہا کہ نوجوانوں کی بہتر تربیت اور کردار سازی کے لیے تعلیم کے ساتھ کھیلوں کو بھی یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔ کرکٹ، فٹ بال، والی بال اور دیگر کھیل نہ صرف نوجوانوں کو جسمانی طور پر صحت مند رکھتے ہیں بلکہ ان میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، برداشت، باہمی تعاون اور ٹیم ورک جیسی مثبت خصوصیات بھی پیدا کرتے ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو غیر صحت مند رجحانات سے دور رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ، اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ کھیل اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ضلع بھر میں کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کے انعقاد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے مناسب مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے ایس ایس پی عمرکوٹ، ڈی ایس پیز اور متعلقہ ایس ایچ اوز سے بھی اپیل کی کہ نوجوانوں کے ساتھ رابطے مضبوط بنائے جائیں، تعلیمی اداروں اور مقامی آبادیوں میں منشیات کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں اور منشیات فروشوں و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے۔
ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے مزید کہا کہ منشیات اور جرائم جیسے سماجی مسائل کا خاتمہ صرف قانونی کارروائیوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، کھیلوں، فنی تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے مناسب ماحول اور ضروری سہولتیں میسر ہوں تو انہیں اپنی صلاحیتوں کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قومی و سماجی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے تعلیمی اداروں، والدین، مقامی صنعت کاروں، مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کو بھی آگے آنا چاہیے۔ نوجوانوں کو کھیلوں کا سامان، تربیت، رہنمائی اور مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرکے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس عمرکوٹ، سامارو، کنری اور پتھورو میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور کھیلوں کے فروغ کو ترجیح دیں، کھیلوں کے میدانوں کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کریں اور مقامی سطح پر کرکٹ، فٹ بال، والی بال سمیت دیگر کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ نوجوانوں کو محفوظ، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع ملیں گے، ان کی صلاحیتیں نکھریں گی اور معاشرے میں صحت مند رجحانات کو فروغ حاصل ہوگا۔
یاد رکھیے! کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوانوں کے لیے ترقی کے راستے کھلیں گے، نوجوان محفوظ ہوں گے تو معاشرے کا مستقبل روشن ہوگا۔