October 28, 2026

مسلمانو! نماز پڑھو، قبل اس کے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے! بدھ 28 اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-10-28_154339.244

مسلمانو! نماز پڑھو، قبل اس کے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے!

بدھ 28 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لیے ایک آخری اور سخت ترین انتباہ ہے جو زندگی کی دوڑ میں مگن ہے اور اپنے خالق کے حکم سے غافل ہو چکا ہے۔ جو انسان آج زبردستی یا سستی کی بنا پر مسجد کا راستہ بھول چکا ہے، ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب وہ بے بس ہو کر مسجد میں لایا جائے گا، لیکن اس وقت وہ نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہوگا بلکہ اس کی جنازے کی نماز پڑھی جا رہی ہوگی۔
مہلت کا ختم ہو جانا اور اچانک موت
انسان کا سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ابھی اس کے پاس بہت وقت ہے۔ کل پڑھ لوں گا، کل توبہ کر لوں گا، بوڑھا ہو کر نمازی بن جاؤں گا! لیکن کیا کسی کے پاس اپنی زندگی کی کوئی ایک سانس کا بھی ضمانت نامہ موجود ہے؟
موت کسی عمر، کسی بیماری یا کسی حادثے کی محتاج نہیں ہے۔ عزریل علیہ السلام جب حکمِ الہی لے کر پہنچتے ہیں تو توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ جو انسان آج زندہ ہے، بول رہا ہے، چل رہا ہے، اگر اس نے آج اللہ کے سامنے سجدہ نہ کیا، تو کل وہ کٹھ پتلی کی طرح تختے پر لٹا دیا جائے گا۔ اس وقت کا پچھتاوا اور آہیں انسان کو جہنم کی آگ سے نہیں بچا سکیں گی۔

*قبر کی تنہائی اور سخت ترین عذاب*
جب انسان کو قبر کے اندھیرے گڑھے میں اتار دیا جاتا ہے اور مٹی ڈال کر اس کے اپنے قریبی رشتہ دار واپس لوٹ جاتے ہیں، تو وہاں سب سے پہلا حساب نماز کا ہی ہوگا۔
احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جو شخص نماز میں غفلت برتتا ہے، قبر اس پر اس طرح تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ اس کی قبر میں ایک ایسا سانپ مسلط کر دیا جاتا ہے جو ہر نماز چھوڑنے پر اسے قیامت تک ڈستا رہے گا۔ اس سانپ کے ایک بار ڈسنے سے انسان ستر گز زمین کے اندر دھنس جاتا ہے۔

کیا دنیا کی کوئی مصروفیت، کوئی ملازمت، کوئی کاروبار یا کوئی عذر اس ہولناک عذاب کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

قیامت کا دن اور فرعون کے ساتھ حشر
قیامت کا دن انتہائی ہولناک دن ہوگا۔ جب ہر انسان کو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا، اس وقت جو لوگ دنیا میں نماز نہیں پڑھتے تھے، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کا حشر فرعون، ہامان، قارون اور ابی بن خلف جیسے سرکشوں کے ساتھ ہوگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اگر نماز کا حساب درست نکل آیا تو باقی تمام اعمال قبول ہو جائیں گے، اور اگر نماز ہی تباہ و برباد نکلی تو باقی تمام اعمال بھی برباد ہو جائیں گے۔

خاتمہ
یہ بات واضح ہے کہ جو انسان آج اپنے پاؤں پر چل کر مسجد نہیں جاتا، کل اسے چار کندھوں پر اٹھا کر لایا جائے گا۔ لیکن اس وقت کی نماز انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔
توبہ کا وقت یہی ہے، یہی گھڑی اور یہی سانس ہے۔ اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ سانس کی ڈور توڑ دے اور تمہاری نمازِ جنازہ پڑھا دی جائے، اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ اور سچی توبہ کر لو۔

اے بندہ مغرور!
نعمتیں اللہ کی دی ہوئی استعمال کرتے ہو اور اسکا سجدہ شکر بھی نہیں بجا لاتے؟

اے ابن آدم!
سوچو وقت ختم ہوا چاہتا ہے ہر لمحے قبر قریب آ رہی ہے۔
غفلت سے اٹھو اور نماز پڑھو۔
پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔

الدعاء:
اللہ تعالی ہم سب کو اس سخت عذاب سے محفوظ رکھے، ہمارے دلوں میں اپنی خشیت پیدا کرے اور ہمیں مرنے سے پہلے سچی توبہ اور پابندِ نماز بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

داعی الی الخیر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333