نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) ایس ایس پی شہید بینظیر آباد ڈاکٹر سمیر نور چنہ کی سربراہی میں شہید
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) ایس ایس پی شہید بینظیر آباد ڈاکٹر سمیر نور چنہ کی سربراہی میں شہید بینظیر آباد پولیس کی بہترین کاروائی بچھڑوں کو اپنوں سے ملانے کا عزم برقرار، دو معصوم بچے چند گھنٹوں میں والدین سے ملوا دیئےایس ایس پی شہید بینظیر آباد ڈاکٹر سمیر نور چنہ کی سربراہی اور بہترین حکمت عملی کے تحت شہید بینظیر آباد پولیس عوام کی خدمت میں پیش ہے۔ ایس ایس پی کی خصوصی ہدایات پر گمشدہ بچوں کی فوری بازیابی کے لیے پولیس نے دو مختلف شاندار کاروائیوں میں دو معصوم پھول جیسے بچوں کو چند گھنٹوں میں باحفاظت ڈھونڈ کر والدین کے حوالے کر دیا۔پہلی کاروائی مددگار 15 نوابشاہ کی بروقت کاروائی ایس ایس پی شہید بینظیر آباد کی ہدایت پر مددگار 15 نوابشاہ کو اطلاع ملی کہ ایک معصوم بچہ گلی میں کھیلتے ہوئے گم ہو گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی مددگار 15 پولیس نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا اور انتھک محنت سے گمشدہ بچے محمد داؤد تنولی کو چند ہی گھنٹوں میں باحفاظت ڈھونڈ لیا۔معصوم داؤد کراچی کا رہائشی ہے جو نوابشاہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس گھومنے آیا تھا اور کھیلتے ہوئے راستہ بھول گیا تھا۔ بچے کو اس کے والد صدر خان تنولی کے حوالے کیا گیا۔ والد نے ایس ایس پی شہید بینظیر آباد اور مددگار 15 پولیس کی بروقت، ہمدردانہ اور بہترین کاروائی کو سراہا اور دل سے شکریہ ادا کیا۔دوسری کاروائی: میں تھانہ اے سیکشن پولیس کو اطلاع ملی کہ 5 سالہ معصوم بچہ فیصل آرائیں گھر سے گم ہو گیا ہے۔ ایس ایچ او اے سیکشن کی قیادت میں ٹیم نے فوری ناکہ بندی اور تلاش شروع کی اور معصوم فیصل کو چند ہی گھنٹوں میں باحفاظت ڈھونڈ کر اس کے والد محرم علی آرائیں کے حوالے کر دیا۔اپنے جگر کے ٹکڑے کو واپس پاکر والدین کی آنکھیں خوشی سے نم ہو گئیں، انہوں نے ایس ایس پی شہید بینظیر آباد پولیس کی اس جذباتی اور بہترین کاروائی پر اظہار تشکر کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ایس ایس پی شہید بینظیر آباد ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے دونوں ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور بچھڑوں کو اپنوں سے ملانا ہماری اولین ترجیح ہے، شہید بینظیر آباد پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔