October 27, 2026

*اسلام میں داڑھی کی شرعی حیثیت اور اس کی اہمیت۔ قرآن و آحادیث اور آثار صحابہ کی روشنی میں* تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-10-23_184935.895

*اسلام میں داڑھی کی شرعی حیثیت اور اس کی اہمیت۔ قرآن و آحادیث اور آثار صحابہ کی روشنی میں*

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

داڑھی صرف ایک جسمانی حالت، قومی روایت یا ثقافتی عمل نہیں ہے، بلکہ یہ دینِ اسلام کا ایک عظیم الشان اسلامی شعار اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتِ متواترہ ہے۔ اسلام میں داڑھی کو مرد کی زینت، فطرت کا تقاضا اور ایمان و تقویٰ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

1.قرآنِ کریم کی روشنی میں داڑھی کا ذکر
اگرچہ قرآنِ کریم میں داڑھی کے وجوب کا کوئی صریح حکم بالواسطہ الفاظ میں موجود نہیں ہے (جیسے نماز یا روزے کی فرضیت کے احکام ہیں)، لیکن تاریخی واقعات کے ضمن میں اس کا ذکر واضح طور پر موجود ہے:
* حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا واقعہ:
قرآنِ کریم میں حضرت ہارون علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور سے واپس آئے اور قوم کی نادانی پر غصے میں حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے، تو حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي
“(ہارون علیہ السلام نے) کہا: اے میرے ماں جائے (بھائی)! میری داڑھی نہ پکڑو اور نہ میرے سر کے بال…” (سورۃ طٰہٰ: 94)
یہ آیتِ کریمہ واضح دلیل ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام دونوں داڑھی والے تھے۔

2.قرآن کا حکم: اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
شریعتِ اسلامیہ میں احکام کے اخذ کرنے کے دو بڑے سرچشمے ہیں: قرآنِ مجید اور سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر امت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر عمل کرنے کا پابند کیا ہے:

* وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
(ترجمہ: اور جو کچھ تمہیں رسول دے وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع کرے اس سے رک جاؤ۔) (سورۃ الحشر: 7)
* مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
(ترجمہ: جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے یقیناً اللہ کی اطاعت کی۔) (سورۃ النساء: 80)
اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کا حکم دے دیا، تو وہ قرآنی حکم کی طرح ہی امت پر واجب اور لازمی ہو جاتا ہے۔

3.تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت
تاریخِ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث فرمائے، وہ تمام کے تمام داڑھی والے تھے۔ کسی ایک نبی سے بھی داڑھی منڈوانا یا کٹوانا ثابت نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی عیسائی مؤرخین اور ان کی روایات شاہد ہیں کہ وہ داڑھی رکھتے تھے اور تمام تاریخی شبیہات میں ان کی داڑھی موجود ہے۔

4.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور تاکیدی احادیث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زندگی کا ایک لمحہ بھی داڑھی کے بغیر نہیں گزارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک گھنی اور پرُانوار تھی۔
احادیثِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں تراشنے کی سخت تاکید فرمائی ہے:

* داڑھی بڑھانے اور مونچھیں تراشنے کا حکم:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ؛ وَوَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ”
(ترجمہ: مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو خوب گھٹاؤ۔) (صحیح البخاری، صحیح مسلم)

* مجوسیوں کی مخالفت کا حکم:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَى، خَالِفُوا الْمُجُوسَ”
(ترجمہ: مونچھیں تراشو اور داڑھیوں کو لٹکنے دو (بڑھاؤ)، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔) (صحیح مسلم)

* فطرت کا حصہ:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ…”
(ترجمہ: دس چیزیں فطرت میں سے ہیں:
مونچھیں تراشنا اور داڑھی کو بڑھانا…) (صحیح مسلم)
* ایران کے بادشاہ کے قاصدوں کا واقعہ:

سیرتِ ابنِ ہشام اور تاریخِ طبری میں درج ہے کہ جب ایران کے بادشاہ کسریٰ کے دو قاصد دربارِ نبوی میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی تھیں اور مونچھیں بڑی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفرت سے ان کی طرف دیکھنا ناپسند فرمایا اور اپنا رخِ انور پھیر لیا اور فرمایا: “تم پر افسوس! تمہیں یہ حلیہ کس نے سجھایا ہے؟” انہوں نے کہا: “ہمارے رب (بادشاہ) نے ہمیں یہ حکم دیا ہے۔” اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لیکن میرے رب نے مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔”
5.صحابہ کرام، خلفائے راشدین اور عشرہ مبشرہ کی سیرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، بالخصوص خلفائے راشدین (حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم) اور عشرہ مبشرہ تمام کے تمام مکمل داڑھی والے تھے۔
اسلام کی پوری تاریخ میں کسی صحابی، تابعی یا تبع تابعی سے داڑھی منڈوانا یا کٹوانا ثابت نہیں ہے۔

6.داڑھی کٹوانے یا منڈوانے کی شرعی حیثیت
تمام آئمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) اور امت کے علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق و اجماع ہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور اس کو منڈوانا یا حدِ شرعی (ایک بالشت) سے کم کٹوانا حرام و گناہِ کبیرہ ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح حکم کی خلاف ورزی ہے۔

7.داڑھی شعائرِ اسلام میں سے ہے
داڑھی صرف ایک باطنی عمل نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کا ملی و اسلامی شعار (علامت) ہے۔ جس طرح نماز، روزہ اور حج اسلام کی پہچان ہیں، اسی طرح مسلمان مرد کی ظاہری شکل و صورت کا اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہونا بھی اس کے مسلمان ہونے کا طرہٴ امتیاز ہے۔ داڑھی سے نفرت کرنا، اس کا مذاق اڑانا یا اسے باعثِ عار سمجھنا انتہائی خطرناک امر ہے جو ایمان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

خلاصہ
داڑھی رکھنا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔ جو لوگ داڑھی سے متنفر ہیں یا اس کی اہمیت کا انکار کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی فکر کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں سے محبت کریں اور اپنی صورت و سیرت کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنتِ نبوی پر سچے دل سے عمل کرنے اور تمام اسلامی شعائر کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا