October 25, 2026

سکھر:بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی روہڑی پولیس پر دو بھائیوں کو بلاجواز گرفتار کرنے، ایک کو

IMG-20261025-WA0202

سکھر:بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی روہڑی پولیس پر دو بھائیوں کو بلاجواز گرفتار کرنے، ایک کو ہاف فرائی اور دوسرے کو لاپتا کرنے کا الزام، اہل خانہ کا پریس کلب کے سامنے احتجاج
اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف انکوائری، لاپتا نوجوان کی بازیابی اور انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

سکھر(بیورورپورٹ)روہڑی بائی پاس کے رہائشی ابڑو برادری سے تعلق رکھنے والے خاندان نے روہڑی پولیس پر دو بیٹوں کو بلاجواز گرفتار کرنے، ایک کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہاف فرائی کرنے اور دوسرے کو لاپتا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مسمات اربیلی، سنگھار علی ابڑو، سجاد علی ابڑو اور مائی ضمیر نے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور لاپتا نوجوان کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔احتجاج کرنے والے اہل خانہ نے صحافیوں کو بتایا کہ تقریباً 10 روز قبل روہڑی پولیس مبینہ طور پر ان کے گھر میں داخل ہوئی اور ان کے دو بیٹوں فرمان علی ابڑو اور برکت علی ابڑو کو بلاجواز گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی۔ اہل خانہ کے مطابق گرفتاری کے بعد دونوں نوجوانوں کے بارے میں کئی روز تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث وہ شدید پریشانی اور ذہنی اذیت کا شکار رہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ چند روز بعد فرمان علی ابڑو کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہاف فرائی کیے جانے کی اطلاع ملی، تاہم ان کے دوسرے بیٹے برکت علی ابڑو کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں متعلقہ پولیس اسٹیشن کے مسلسل چکر لگا رہے ہیں، لیکن انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل رہا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت میں پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔اس موقع پر مسمات اربیلی نے کہا کہ ان کے دونوں بھائی محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ پولیس کی مبینہ کارروائی کے بعد ان کا خاندان شدید کرب اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بھائیوں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا اور ایک بھائی کو مبینہ طور پر جھوٹا پولیس مقابلہ ظاہر کرکے ہاف فرائی کیا گیا، جبکہ دوسرے بھائی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔مظاہرین نے کہا کہ گھر میں سوگ اور بے چینی کی فضا قائم ہے، اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے سخت پریشان ہیں اور انہیں انصاف کے لیے دربدر ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے بیٹوں پر کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، لیکن کسی کو بھی غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے یا اس کے بارے میں اہل خانہ کو بے خبر رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔احتجاج کرنے والے خاندان نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کرائی جائے، برکت علی ابڑو کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، فرمان علی ابڑو کے معاملے کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں اور خاندان کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔اہل خانہ نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا اور لاپتا نوجوان کے بارے میں حقائق سامنے نہ لائے گئے تو ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کو انسانی ہمدردی اور قانون کی بالادستی کے تقاضوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔