دیہی خواتین کے لیے حکومتی سہولیات: اعلان سے آگاہی اور رسائی تک کا سفر
دیہی خواتین کے لیے حکومتی سہولیات: اعلان سے آگاہی اور رسائی تک کا سفر
دیہی خواتین کو ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے
بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی بھرپور نمائندگی سے خواتین کے مسائل حل ہوں گے
تحریر: .صادق علی مرزا
پاکستان کی ترقی میں خواتین کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، خصوصاً دیہی خواتین ہماری معیشت، زراعت، گھریلو نظام اور معاشرتی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ دن رات محنت کرتی ہیں، مویشی پالتی ہیں، کھیتوں میں کام کرتی ہیں، گھر سنبھالتی ہیں اور بچوں کی تربیت میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں، لیکن افسوس کہ آج بھی بڑی تعداد میں دیہی خواتین اپنے بنیادی حقوق، سرکاری سہولیات اور حکومتی فلاحی پروگراموں سے پوری طرح آگاہ نہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے خواتین، بالخصوص کم آمدنی والے اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے مختلف مراعات، امدادی پروگراموں اور سہولیات کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے۔ خواتین کے لیے مویشی یا جانور فراہم کرنے، بلاسود یا آسان شرائط پر قرضے دینے، گھر کی تعمیر کے لیے مالی معاونت، بیٹیوں کی شادی کے لئے دھی رانی کاروبار کے لیے امداد، بیواؤں کے لیے مختلف معاونت اور راشن کارڈ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگرام معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید کی کرن ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف فوری مالی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں بلکہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
جدید دور اور ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں سرکاری سکیموں کی معلومات عموماً ویب سائٹس، موبائل فون، سوشل میڈیا، ایس ایم ایس اور آن لائن درخواست کے طریقہ کار کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔جس کا مقصد شفافیت کو مدنظر رکھنا ہے لیکن دوسری طرف شہری علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے ان ذرائع تک رسائی نسبتاً آسان ہے، مگر دور دراز دیہی علاقوں میں صورتحال مختلف ہے۔ بہت سی خواتین کے پاس اسمارٹ فون نہیں، بعض کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کا طریقہ معلوم نہیں، کئی خواتین ڈیجیٹل فارم پُر کرنے سے ناواقف ہیں اور کچھ خواتین تو یہ بھی نہیں جانتیں کہ ان کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی سہولت یا پروگرام موجود ہے۔یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت اعلان کے ساتھ ساتھ آگاہی، رہنمائی اور رسائی کا مؤثر نظام بھی قائم کرے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور دیہی مرکز یا یونین کونسل کی سطح پر خواتین کے لیے باقاعدہ آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ مقامی زبان اور آسان الفاظ میں بتایا جائے کہ کون سی سکیم کس کے لیے ہے، اس کے لیے کون اہل ہے، درخواست کہاں جمع کرانی ہے، کون سے کاغذات درکار ہیں اور درخواست کی منظوری کے بعد فائدہ کس طریقے سے حاصل ہوگا۔
اس مقصد کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی، مقامی عمائدین، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی ورکرز اور صحافتی ادارے بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں موبائل آگاہی کیمپ، خواتین کے لیے معلوماتی نشستیں اور گھر گھر بنیادی معلومات کی فراہمی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔اسی طرح ہر تحصیل یا یونین کونسل کی سطح پر ایک ایسا رہنمائی مرکز قائم کیا جاسکتا ہے جہاں خواتین کو سرکاری سکیموں کے بارے میں مفت معلومات دی جائیں اور آن لائن درخواست دینے میں مدد فراہم کی جائے۔ اس سے خواتین کو جعل ساز عناصر کے ہاتھوں استحصال سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اخبارات، ریڈیو، مقامی کیبل چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے باقاعدگی سے آسان مقامی زبان میں معلومات نشر کی جائیں۔۔خاص طور پر دیہی خواتین کے لیے یہ پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے کہ سرکاری سہولت ان کا حق ہے، انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے معلومات، رہنمائی اور محفوظ طریقہ کار فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔حکومت اگر فلاحی منصوبوں کے ساتھ ان کی رسائی کو آسان بنا دے تو ان پروگراموں کے ثمرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔ ایک مستحق بیوہ کو بروقت مالی امداد، ایک غریب خاندان کی بیٹی کی شادی میں معاونت، کسی ضرورت مند خاتون کو گھر کی تعمیر کے لیے قرضہ یا کسی دیہی خاتون کو مویشی فراہم کرنا صرف ایک خاندان کی مدد نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے آگاہی، سے آگے رسائی اور رسائی سے آگے حقیقی مستحقین تک سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔پنجاب کی دیہی خواتین ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر انہیں حکومتی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی، مالی معاونت اور درست معلومات تک آسان رسائی فراہم کردی جائے تو یہی خواتین اپنے خاندانوں کو غربت سے نکالنے اور معاشرے کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔اس سلسلہ میں سول سوسائٹی بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں ۔خواتین کے لئے بہت سی سول سوسائٹی خواتین ایمپاورمنٹ پر کام کررہی ہیں وہاں ادارہ پودا (PODA) کی کاوشیں کبھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی پودا کے زیر اہتمام ہر سال اکتوبر اسلام آباد میں دیہی خواتین کے اعزاز میں کانفرنس منعقد کی جاتی ہے جہاں ملک بھر سے ہزاروں دیہی خواتین شرکت کرتی ہیں جہاں اپنی کامیابیاں اور مسائل پر گفتگو ہوتی ہے اس سال بھی 19 ویں پودا کانفرنس کی تیاریاں شروع ہیں اس سلسلہ میں پودا کی ڈائریکٹر ثمینہ نزیر نے عزت مآب وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ وثقافت جناب اورنگ زیب خان کھچی سے آفس سیکریٹریٹ میں ملاقات کی اور کانفرنس بارے معلومات فراہم کی ۔جس پر خان اورنگ زیب خان کھچی نے کہا کہ خواتین ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کررہی ہیں دیہات کی خواتین محنتی ہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں حکومت نے خواتین کو ایمپاور کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے ۔
حکومت کے دیہی خواتین کے لئے فلاحی اقدامات قابلِ ستائش ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی دور افتادہ گاؤں میں بیٹھی ایک مستحق خاتون بھی یہ جانتی ہو کہ اس کے لیے حکومت نے کیا سہولت دی ہے، وہ اس کی اہل ہے یا نہیں، اور وہ اس سہولت کو کیسے حاصل کرسکتی دوسری طرف حکومت کی جانب سے تعلیم کے ساتھ ہنر مند بنانا خوش آئند ہے یہ حقیقت ہے کہ آنے والا دور ہنر مند کا ہے جس سے باعزت روزگار حاصل کرسکتے ہیں وہاں ملک کی ترقی میں ہنر مند اہم کردار ادا بھی کریں گے دیہی خواتین کو ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے تاکہ یہ خواتین گھر بیٹھ کر کام کر سکیں اور انے والے وقت میں یہ خواتین امداد لینے کی بجائے علاقہ کی مستحق خواتین کا سہارا بھی بن سکیں گی اگر دیہی خواتین کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کئے جائیں اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا گیا تو وہ وقت دور نہیں کہ ہمارا ملک مزید ترقی کرے گا اور دیہی خواتین خوشحال ہوسکیں گی