ہارون آباد حکومت اور پی ٹی ائی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونا انتہائی قابل افسوس اور بد قسمتی
ہارون آباد
حکومت اور پی ٹی ائی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونا انتہائی قابل افسوس اور بد قسمتی ہے فریقین کو تحمل برداشت اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر دوبارہ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھنا ہوگا اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ایک متفقہ لائحہ عمل طے کر کے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا ہو گا وطن عزیز میں آئینی بحران اور انتشار گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں تین روزہ مذاکرات کا نتیجہ خیز نہ ہونا عالمی سطح پر ہماری ساکھ کو متاثر کرے گا
ان خیالات کا اظہار سابق صدر چیمبر آف کامرس لاہور سینیٹر ظفر اقبال چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے
سابق صدر چیمبر آف کامرس نے کہا مذاکراتی عمل انتہائی خوبصورت عمل ہے مذاکراتی عمل حوصلہ افزا عمل ہے بڑے بڑے مسائل اور بڑی سے بڑی کشیدگی کا حل مذاکرات سے نکلتا ہے عالمی جنگوں کا خاتمہ مذاکرات سے ہوتا ہے بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں جن میں بڑے مدبر اور دانشور لوگ موجود ہیں مذاکرات کامیاب کرنے میں ناکام رہے محترمہ شیریں رحمان راجہ ناصر عباس سید نوید قمر انجینئر امیر مقام رانا ثنا اللہ و دیگر سینیئر قیادت کی موجودگی کے باوجود حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی ناکامی بڑی بدقسمتی ہے جس کا وطن عزیز متحمل نہیں ہو سکتا
ظفر اقبال چوہدری نے کہا مذاکراتی ٹیموں میں قومی قیادت کے سینیئر ترین ممبران شامل ہیں جو بدقسمتی سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے یہ عالمی مسئلہ تو ہے نہیں گھر کی بات ہے اور گھر میں بیٹھ کر اس کا ایسا شاندار حل نکالا جائے کہ آنے والی نسلیں فخر کریں پوری قوم کی نظریں مذاکراتی ٹیموں پر ہیں اور وہ بہترین حل کی امید لگائے بیٹھے ہیں فریقین فوری طور پر دوبارہ مذاکرات شروع کریں اور ایک مثبت حل نکال کر قیام عمل یکجہتی اتحاد اتفاق کی طرف قدم بڑھائیں