October 4, 2026

پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تحفظ کے لیے سکھر پریس کلب پہنچ گیا، اعلیٰ حکام سے فوری سکیورٹی کا مطالبہ

Screenshot_2026-10-04_135803.386

پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تحفظ کے لیے سکھر پریس کلب پہنچ گیا، اعلیٰ حکام سے فوری سکیورٹی کا مطالبہ

سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی کے ساتھ یار محمد سومرو)نوشہروفیروز سے تعلق رکھنے والے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے مبینہ دھمکیوں اور جان کو لاحق خطرات کے باعث سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے تحفظ کی اپیل کردی۔ جوڑے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے باہمی رضامندی سے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے عدالت میں شادی کی، تاہم شادی کے بعد سے اہل خانہ اور بعض دیگر افراد کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔سکھر پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اصغر علی ولد یوسف منگریو اور ان کی اہلیہ ماجدہ دختر ماجد علی منگریو نے بتایا کہ انہوں نے 2 اکتوبر کو سکھر کی سیشن کورٹ میں اپنی آزاد مرضی اور باہمی رضامندی سے قانونی طور پر شادی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے بعد نوشہروفیروز میں پرامن اور معمول کی ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تاہم ماجدہ کے والد، بھائی اور بعض دیگر رشتہ دار اس شادی کو قبول نہیں کر رہے، جس کے باعث انہیں مبینہ طور پر مسلسل دھمکیوں اور خوف و ہراس کا سامنا ہے۔ماجدہ منگریو نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد ماجد علی منگریو، میر، خدا بخش، ساجد منگریو اور دیگر افراد کی جانب سے انہیں اور ان کے شوہر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض محلے داروں اور رشتہ داروں کی جانب سے بھی انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث وہ شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ماجدہ منگریو نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں، انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا اور نہ ہی ان پر شادی کے لیے کسی قسم کا دباؤ تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے اصغر علی منگریو کے ساتھ عدالت میں نکاح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ پرامن زندگی گزارنا چاہتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں انہیں اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔اصغر علی منگریو نے کہا کہ وہ اور ماجدہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی بنا پر دونوں نے باہمی رضامندی سے قانون کے مطابق عدالت میں شادی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماجدہ کے والد اور بھائی اس فیصلے سے ناخوش ہیں جبکہ بعض دیگر افراد کی جانب سے بھی انہیں مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔جوڑے نے میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے اپیل کی کہ ان کی شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بیان اور تحفظ کی درخواست کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے کہا کہ وہ کسی سے تصادم نہیں چاہتے اور صرف اپنی مرضی سے کی گئی قانونی شادی کے بعد پُرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ پولیس و انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور مبینہ دھمکیوں کا فوری نوٹس لے کر انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔