*بیدار ہونے تک* *کراچی شہر کہاں چلا گیا؟* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ*
*بیدار ہونے تک*
*کراچی شہر کہاں چلا گیا؟*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ*
کراچی میں برسوں سے رہنے والے لوگ آج بھی وہ کراچی نہیں بھولے جسے کبھی پاکستان کی معاشی شہ رگ، حبِ صنعت و تجارت، صنعت کاری، اسمال انڈسٹریز، درآمدات و برآمدات، کاروبار، بازار، تعلیم، ہنر، علم و ادب، تہذیب و تمدن اور جدید و قدیم فنون کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ کراچی تھا جہاں مختلف نسلوں، قومیتوں، زبانوں، برادریوں، ذاتوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر باہمی تعاون، مدد، احساس، شرم و حیا اور معاشرتی ذمہ داری بھی نظر آتی تھی۔ کبھی کراچی کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں نسبتاً اطمینان کے ساتھ اپنے کاموں کے لیے گھر سے نکلتی تھیں، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ خواتین تو ایک طرف، مرد حضرات بھی گھر سے نکلتے ہوئے واپسی کی خیر و عافیت کی دعائیں کرتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کراچی شہر کہاں چلا گیا؟ کہاں گیا وہ شہر جہاں شہریوں کو بنیادی سہولتیں میسر تھیں؟ آج کہیں پینے کا پانی نہیں، کہیں سیوریج کا نظام تباہ، کہیں چلنے کے لیے مناسب فٹ پاتھ نہیں، کہیں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور کہیں کھلے مین ہول شہریوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔شاہراہوں پر حادثات، ٹریفک کی بدنظمی، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور شہریوں کی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب شہری شکایات کرتے ہیں کہ معمولی یا غیر واضح خلاف ورزیوں پر بھی چالان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ تجاوزات اور قبضوں کے مسائل کئی علاقوں میں بدستور موجود ہیں۔کراچی کا عام شہری آخر کس دروازے پر دستک دے؟ وہ پانی مانگے تو کس سے مانگے؟ وہ سڑک مانگے تو کس سے مانگے؟ وہ محفوظ سفر چاہے تو کس ادارے سے امید رکھے؟ وہ تجاوزات کے خلاف فریاد کرے تو کون سنے؟ وہ قانون کی بالادستی چاہے تو کس کے پاس جائے؟ یہ شہر کسی ایک فرد، جماعت، گروہ یا ادارے کی ملکیت نہیں۔ کراچی اس کے کروڑوں شہریوں کا شہر ہے اور شہریوں کو بنیادی شہری سہولتیں، تحفظ، عزت اور قانون کی یکساں عمل داری ملنا ان کا حق ہے۔ کراچی کی بدحالی کو محض سیاسی بیان بازی یا ایک دوسرے پر الزام تراشی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختیارات، وسائل اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ہو، اداروں کا مؤثر احتساب ہو، بلدیاتی نظام کو عملی طور پر بااختیار بنایا جائے اور شہری مسائل کے حل کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ آئین اور قانون کسی فرد، جماعت یا ادارے کی جاگیر نہیں۔ ریاستی اختیار دراصل عوام کی امانت ہے۔ جو بھی اختیار رکھتا ہے، اسے اپنے فیصلوں اور کارکردگی کے لیے جواب دہ بھی ہونا چاہیے۔ کراچی کو مافیاؤں، قبضہ گروپوں، غیر قانونی تجاوزات، بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی کشمکش سے نکالنا ہوگا۔ پولیس، رینجرز، بلدیاتی ادارے، صوبائی و وفاقی محکمے اور دیگر متعلقہ ادارے اگر اپنے اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں مؤثر، شفاف اور غیر جانب دارانہ انداز میں کام کریں تو شہریوں کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ کراچی کسی کی جاگیر نہیں، کراچی پاکستان کا معاشی مرکز اور کراچی کے شہریوں کا حق ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ظلم، ناانصافی اور بدانتظامی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ مہلت ضرور دیتا ہے مگر اس کے ہاں کسی کے لیے دائمی استثنا نہیں۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے جس کا مفہوم ھے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ لہٰذا کراچی کے شہریوں کو بھی اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس و واجبات کی ادائیگی، صفائی کا خیال، ٹریفک قوانین کی پابندی، تجاوزات سے اجتناب اور بدعنوانی کے خلاف اجتماعی آواز—یہ سب شہری کردار کا حصہ ہیں۔ آج کراچی کو صرف تقریروں اور پریس کانفرنسوں کی نہیں، بلکہ عملی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کراچی کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں شہری کو پانی کے لیے سفارش نہ کرنی پڑے، سڑک کے لیے احتجاج نہ کرنا پڑے، علاج کے لیے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں، پولیس کے سامنے خوف محسوس نہ ہو اور گھر سے نکلنے والا شخص یہ سوچ کر نہ نکلے کہ پتا نہیں واپس بھی آسکوں گا یا نہیں۔ کراچی کی فریاد بہت طویل ہوچکی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ شہر کو سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ قانون، میرٹ، شفافیت، احتساب، مؤثر بلدیاتی نظام اور حقیقی شہری خدمت سے دوبارہ سنوارا جائے۔ ہم مایوس نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے حالات کا رخ بدل سکتا ہے۔ اگر کراچی کے شہری، ادارے اور ذمہ داران اپنی اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کریں تو یہ شہر دوبارہ امن، تجارت، صنعت، تعلیم، تہذیب اور خوشحالی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔دعا ہے کہ 2027ء کراچی کے لیے امن، خوشحالی، بہتر شہری نظام، محفوظ سفر، صاف پانی، بہتر سڑکوں اور روشن مستقبل کی نئی نوید لے کر آئے۔ یا اللہ! کراچی اور اس کے شہریوں پر رحم فرما، اس شہر کو امن، انصاف، خوشحالی اور ترقی عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔ !!