September 26, 2026

ایک مختصر تعارف: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

IMG-20260923-WA0186(1)

ایک مختصر تعارف: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

جاوید صدیقی کراچی سے وابستہ سینئر صحافی اور کالمکار کے طور پر اپنا صحافتی و قلمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ آن لائن مواد میں بھی انہیں کراچی کے سینئر صحافی و کالمکار کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور ان کے نام سے سندھ، کراچی، شہری مسائل، حقوق، تعلیم، صحت، روزگار اور طرزِ حکمرانی جیسے موضوعات پر تحریریں شائع ہوئی ہیں۔ بی بی سی اردو ان کے بارے میں آپ کی فراہم کردہ سوانحی تفصیلات کے مطابق کچھ یوں بیان کرتا ھے،
ان کا تعلق سندھ سے ہے اور ان کی ابتدائی زندگی خیرپور میرس، گمبٹ، نواب شاہ، سکرنڈ اور میرپورخاص سے وابستہ رہی۔ بعد ازاں روزگار کے سلسلے میں کراچی منتقل ہوئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کی۔ ان کا صحافتی تجربہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا دونوں سے وابستہ رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انہوں نے ان پٹ اور آؤٹ پٹ کے مختلف شعبوں میں کام کیا۔ پرنٹ میڈیا میں رپورٹنگ، تجزیاتی تحریر اور کالم نویسی ان کے نمایاں شعبے ہیں۔ ان کی تحریروں میں کراچی کے شہری مسائل، سندھ کے معاملات، حکمرانی، پولیس، عوامی حقوق، صحافت، سماجی مسائل اور مذہبی و اخلاقی موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی ایک معروف کالم سیریز “بیدار ہونے تک” ہے، جس میں وہ دینی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ وہ کراچی پریس کلب سے بھی وابستہ ہیں اور صحافی برادری کے معاملات، تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور فلاحی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سندھی زبان سے بھی ان کی خاص وابستگی ہے؛ وہ سندھی زبان سیکھنے اور اردو کے ساتھ سندھی زبان کے فروغ کے حوالے سے سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں۔ ایک اہم وضاحت آن لائن تلاش میں “جاوید صدیقی” کے نام سے متعدد مختلف شخصیات سامنے آتی ہیں۔ مثلاً ایک معروف بھارتی ادیب و اسکرین رائٹر جاوید صدیقی بھی اسی نام سے موجود ہیں؛ ان کا تعلق ممبئی کی فلم، تھیٹر اور اردو ادب سے ہے۔ اس لیے ان کی معلومات کو کراچی کے صحافی جاوید صدیقی کے ساتھ غلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ صحافتی شناخت جاوید صدیقی کی موجودہ تحریروں سے جو نمایاں قلمی شناخت سامنے آتی ہے، وہ صحافت، کالم نویسی، شہری مسائل، سندھ و کراچی کے معاملات، عوامی حقوق اور دینی و معاشرتی موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ مثال کے طور پر 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ان کے سندھ سے متعلق خیالات اور بنیادی حقوق، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے موضوعات پر گفتگو کا ذکر موجود ہے۔ کالمکار جاوید صدیقی کا مرکزی عنوان: “بیدار ہونے تک” انکا ٹریڈ مارک بن چکا ھے کیونکہ آپ نے 2008 سے کالم لکھنا شروع کردیا تھا جبکہ گاہے بگاہے مختلف اخبارات میں انکی خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ آج 2026 کے آخیر تک چاروں صوبوں کے مختلف اخبارات، جرائد، اور ویب نیوز میں کالمز کیساتھ ساتھ رپورٹ خبریں بھی شائع ہورہی ہیں۔ جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کی خبروں اور کالمز کا دائرہ کار وسیع پیمانے پر ھے جو بین الاقوامی اخبارات و ویب کی زینت بن چکا ھے اور بن رھا ھے۔ آپکے کالم کا عنوان بیدار ہونے تک آپکی پہنچان اور علامت بن چکا ھے۔ صحافی و کالمکار جاوید صدیقی کے مرکزی عنوان: بیدار ہونے تک میں کالم، فکری و اصلاحی تحریر، سماجی و شہری تجزیہ، دینی و اخلاقی مضامین تلاش میں اس سلسلے کے یہ نمایاں کالم یہ ہیں: کیا یہی ہے جناح کا پاکستان، پاکستان، قائداعظم اور قیامِ پاکستان، کراچی کے چند علاقوں کی تاریخ،
کراچی کے مختلف علاقوں کا تاریخی پس منظر، سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، شہر کراچی کو انٹرنیشنل طرز پر استوار، کراچی کی شہری ترقی اور حکمرانی، کراچی شہر بے یار و مددگار، شہری مسائل اور انتظامی معاملات، سرکاری ملازمین کی پنشن پر ڈاکے کی تیاریاں، ہنشن اور سرکاری ملازمین، غصے اور جذبات میں غلط فیصلے، انسانی رویے، غصہ اور اخلاق، تہمت لگانے والو ذرا اس حقیقت سے آگاہ ہوجاؤ، تہمت، گناہ اور اسلامی اخلاقیات، دین کی سمجھ ہر مسلمان پر فرض ہے، قرآن و سنت اور اسلامی فہم،
کتے۔۔ اپر اور لوئر ہاؤس؟؟ پاکستان کے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ، انتتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کا تصور، ماہرِ تعلیم عہد ساز شخصیت، سردار حسین صدیقی علیگیرین مرحوم، شخصیت، تعلیم اور خاندانی/علمی خدمات، قربِ قیامت کے فتنے اور رہن کی بیماری، آخری زمانہ، فتنے اور اسلامی روایات، الرحمن الرحیم، رحمتِ الٰہی کا عظیم پیغام، اللہ تعالیٰ کی صفات اور رحمت، ان میں سے ”کیا یہی ہے جناح کا پاکستان“ فروری 2021 میں قربت نیوز لاہور پر اسی عنوان ”بیدار ہونے تک“ اور کالمکار جاوید صدیقی کے نام سے شائع ہوا تھا۔
اسی طرح ”کراچی کے چند علاقوں کی تاریخ“ میں گولیمار، لالو کھیت/لیاقت آباد، لانڈھی، کریم آباد، اورنگی ٹاؤن اور سولجر بازار سمیت مختلف علاقوں کے ناموں اور تاریخی پس منظر پر گفتگو کی گئی ہے۔
موجودہ دور میں کالم کا دائرہ 2026 کے دستیاب مواد سے خاص طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ”بیدار ہونے تک“ کا دائرہ دینی اور اصلاحی موضوعات کی طرف بھی بہت نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر ”دین کی سمجھ ہر مسلمان پر فرض ہے“ میں اسلام اور دینی فہم کو موضوع بنایا گیا، جبکہ ”الرحمن الرحیم، رحمتِ الٰہی کا عظیم پیغام“ میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں اور رحمتِ الٰہی پر گفتگو کی گئی۔ ”قربِ قیامت کے فتنے اور رہن کی بیماری“ 23 ستمبر 2026 کو بھی اسی سلسلے کے عنوان سے شائع ہوا، جس میں قرآن و احادیث کی روشنی میں آخری زمانے کے فتنوں پر بحث کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں ”پاکستان کے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ“ اگست 2026 میں شائع ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالم کا دائرہ مذہبی موضوعات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے انتظامی اور سیاسی معاملات تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ دستیاب تحریروں کو موضوعاتی طور پر دیکھا جائے تو „بیدار ہونے تک“ کو تقریباً پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
1۔ دینی و اسلامی موضوعات
قرآن، احادیث، عقیدہ، آخرت، اسلامی احکام، اخلاقیات اور اصلاحِ معاشرہ۔
2۔ اخلاقی و فکری موضوعات
غصہ، تہمت، انسانی کردار، سچائی، اصلاح، ذمہ داری اور معاشرتی رویے۔
3۔ کراچی اور سندھ
کراچی کے تاریخی و شہری مسائل، انتظامیہ، ترقی، عوامی مشکلات اور سندھ کے معاملات۔
4۔ پاکستان اور نظامِ حکومت
پاکستان کا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ، نئے صوبے، حکمرانی اور عوامی حقوق۔
5۔ شخصیات اور تاریخ
قائداعظم، تعلیمی شخصیات اور معاشرے میں خدمات انجام دینے والی شخصیات۔
اس لحاظ سے ”بیدار ہونے تک“ محض ایک دینی کالم نہیں بلکہ جاوید صدیقی کا وسیع موضوعاتی کالمی سلسلہ ہے، جس میں دینی اصلاح، سماجی شعور، شہری مسائل، پاکستان کے معاملات اور تاریخی موضوعات ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ نتیجہ دستیاب شائع شدہ نمونوں کی بنیاد پر ہے، مکمل فہرست کا دعویٰ نہیں۔