عنوان: الرحمن الرحیم، رحمتِ الٰہی کا عظیم پیغام* *کالمکار: جاوید صدیقی*
الرحمن الرحیم: رحمتِ الٰہی کا عظیم پیغام
الرحمن الرحیم — رحمت، مغفرت اور امید
رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ ہوں
الرحمن الرحیم: بندے اور رب کا تعلق
اللہ کی رحمت، انسان کی بیداری
رحمتِ ربانی اور ہماری ذمہ داریاں
الرحمن کی وسعت، الرحیم کی شفقت
رحمتِ الٰہی: مایوسی نہیں، امید
الرحمن الرحیم — رب کی بے پایاں رحمت
رحمت پہچانو، رب کو پہچانو
*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*
*عنوان: الرحمن الرحیم، رحمتِ الٰہی کا عظیم پیغام*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
انسان جب دنیا کی مصروفیات، خواہشات، پریشانیوں، آزمائشوں اور اپنی کمزوریوں میں الجھ جاتا ہے تو بسا اوقات وہ اس عظیم حقیقت کو بھول بیٹھتا ہے کہ اس کا رب صرف خالق ہی نہیں بلکہ الرحمن اور الرحیم بھی ہے۔ وہ رب جو اپنے بندوں کو بے شمار نعمتیں عطا کرتا ہے، لغزشوں کے باوجود مہلت دیتا ہے، توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے اور اپنی رحمت سے مایوس ہونے سے روکتا ہے۔ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے دو عظیم صفاتی نام ہیں، دونوں کا تعلق رحمت سے ہے۔ قرآنِ کریم کی ابتدا ہی میں الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کے بعد الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کا ذکر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تمام جہانوں کا پروردگار اپنی مخلوق پر رحمت فرمانے والا بھی ہے۔الرحمن اللہ تعالیٰ کی وسیع، ہمہ گیر اور بے پایاں رحمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جو کسی ایک طبقے تک محدود نہیں۔ زندگی، سانس، رزق، پانی، ہوا، سورج کی روشنی، زمین کی پیداوار اور زندگی کے بے شمار اسباب اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت کے مظاہر ہیں۔ قرآن فرماتا ہے: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ“ اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔” (سورۃ الاعراف: 156) مگر الرحیم اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت، مہربانی اور مسلسل فضل کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے، خصوصاً اہلِ ایمان کے لیے۔ ہدایت، ایمان، توبہ کی توفیق، گناہوں کی مغفرت اور آخرت میں اجر و انعام بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مظاہر ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ”اور اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان پر بہت مہربان ہے۔“ (سورۃ الاحزاب: 43) یہاں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف ہماری خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں۔ کبھی عطا میں رحمت ہوتی ہے اور کبھی روک لینے میں، کبھی آسانی میں رحمت ہوتی ہے اور کبھی آزمائش میں، کبھی کسی راستے کا کھل جانا رحمت ہوتا ہے اور کبھی کسی راستے کا بند ہوجانا انسان کے حق میں رحمت ثابت ہوتا ہے۔ ہم محدود علم رکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ہم صرف آج دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ انجام بھی جانتا ہے۔ اسی لیے مومن کا تعلق اپنے رب سے صرف خوش حالی میں نہیں بلکہ آزمائش میں بھی قائم رہتا ہے۔ رحمت اور انسان کا کردار اگر ہمارا رب الرحمن الرحیم ہے تو اس کے بندے کی زندگی میں بھی رحم، شفقت، محبت اور انسانیت کا اظہار ہونا چاہیے۔ آج ہمارا معاشرہ ایک عجیب کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے رحمت چاہتے ہیں لیکن بعض اوقات خود اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری غلطیاں معاف کرے، مگر دوسروں کی معمولی لغزش بھی برداشت نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری مشکلات آسان کرے، مگر کسی ضرورت مند کی مشکل آسان کرنے سے پہلے کئی سوال اٹھاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمارے ساتھ نرمی فرمائے، مگر اپنے ماتحت، کمزور، غریب، ملازم، پڑوسی اور محتاج انسان کے ساتھ سختی کرتے ہیں۔ یہ کیسی دو عملی ہے؟ رحمت صرف زبان سے الرحمن الرحیم پڑھنے کا نام نہیں؛ رحمت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے، ہماری زبان کسی کی عزت پامال نہ کرے، ہماری تحریر کسی بے گناہ کی کردار کشی نہ کرے اور ہمارے اختیار سے کسی کمزور کا حق نہ چھینا جائے۔ نبی کریم ﷺ اور رحمت رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ رحمت، شفقت، عفو اور انسانیت کا عظیم نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم میں آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا گیا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔“ (سورۃ الانبیاء: 107) یہ آیت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہماری گفتگو، معاملات، اخلاق اور معاشرت میں رحمت، عدل، شفقت اور حسنِ سلوک کہاں تک موجود ہے؟ محبتِ رسول ﷺ صرف الفاظ نہیں؛ محبتِ رسول ﷺ کردار بھی مانگتی ہے۔ رحمت سے مایوسی کیوں؟ انسان گناہ کرتا ہے، پھر شرمندہ ہوتا ہے، کبھی توبہ کرتا ہے اور کبھی اپنے گناہوں کے بوجھ تلے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ شیطان کی بڑی چال ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیا جائے۔ قرآنِ کریم کا پیغام انتہائی واضح ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ”کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔“ (سورۃ الزمر: 53) یہ آیت گناہ گار انسان کے لیے امید کا دروازہ کھولتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو غلطی تسلیم کرے، اللہ کی طرف پلٹے، توبہ کرے اور اصلاح کی کوشش کرے۔
*رحمن و رحیم کا پیغام اور ہماری بیداری*
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے نام پڑھیں نہیں بلکہ ان کے مفہوم کو اپنی زندگی میں بھی اتاریں۔ اگر اللہ الرحمن ہے تو ہمیں اس کی نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر اللہ الرحیم ہے تو ہمیں اس کی رحمت کا امیدوار بننا چاہیے۔ اگر اللہ نے ہمیں معاف کرنے کی امید دی ہے تو ہمیں بھی دوسروں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔اگر اللہ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں تو ہمیں محروم انسانوں کا سہارا بننا چاہیے۔اور اگر ہم واقعی رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کے اخلاق، عدل، شفقت اور رحمت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ دنیا میں طاقت، دولت، منصب اور شہرت سب عارضی ہیں۔ انسان اپنے ساتھ نہ دولت لے جاتا ہے، نہ عہدہ، نہ اختیار۔ قبر میں انسان کے ساتھ اس کا ایمان، اس کے اعمال اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید جاتی ہے۔ اس لیے ابھی وقت ہے۔ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ اپنی زبانوں کو نرم کریں۔ اپنے دلوں سے نفرت نکالیں۔ مظلوم کا حق ادا کریں۔ ضرورت مند کا سہارا بنیں۔والدین، اولاد، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور تمام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ الرحمن ہمیں اپنی وسیع رحمت کا احساس دلاتا ہے، اور الرحیم ہمیں اس رحمت کے ساتھ اپنے خصوصی فضل، مغفرت اور قرب کی امید عطا کرتا ہے۔ پس سوال یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہم اس رحمت کو پہچان کر اپنے کردار میں کتنی رحمت پیدا کرتے ہیں؟شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے دل، اپنے اعمال اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمتِ واسعہ کے سائے میں رکھے، ہمیں سچی توبہ، ایمان، نیک عمل، رحم، شفقت، عدل اور حسنِ اخلاق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین…!!