*اسپانٹک چوٹی سر کرنے والی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش کیسے ملی؟*
**اسپانٹک چوٹی سر کرنے والی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش کیسے ملی؟*
جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان کے خاندان نے اس مشکل اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے اپریشن کے رضاکاروں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کی۔ ان 6 نوجوانوں نے یہ رقم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔ جس کام کے لیے مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے وہ انہوں نے ایک پیسہ لیے بغیر مکمل کر دکھایا۔
ماجرا کیا تھا؟
34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ برطانیہ میں مقیم تھیں جہاں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ طب کے پیشے کے ساتھ ساتھ انھیں کوہ پیمائی، سفر اور ٹریول ولاگنگ سے خاص دلچسپی تھی۔
وہ پانچ رکنی پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں جس نے قراقرم میں واقع 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی۔ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر انھیں اچانک شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی ممکنہ وجہ بلند مقام کی مخصوص بیماری بتائی گئی۔ ساتھی ماؤنٹین گائیڈز کی بھرپور کوشش کے باوجود 21 اگست کو کیمپ تھری پر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
لا۔۔ش دو ہفتے تک برف میں دبی رہی
مو۔ت کے بعد باقی ٹیم نیچے اتر آئی جبکہ ان کی میت سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دب گئی۔ ابتدائی کوششیں ناکام رہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں موسم کی شدت اور دشوار گزار راستوں نے کام مزید مشکل بنا دیا تھا۔ اسی دوران میت کی برآمدگی کے لیے خاندان سے مبینہ طور تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے۔ ان کے شوہر بھی بیرون ملک سے واپس آگئے تھے۔
6 رضاکاروں کا کارنامہ
بالآخر مبینہ طور پر شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں چھ رضاکار ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز سپانٹک روانہ ہوئے۔ اس ٹیم میں نواب عباس، حسین بیگ (مونٹنر)، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار شامل تھے۔ سخت موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود انہوں نے کیمپ تھری سے آگے سرچ آپریشن جاری رکھا اور آخرکار میت تلاش کر لی۔ ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق ٹیم میت کے ہمراہ کیمپ ٹو پہنچ گئی اور برفباری میں رکاوٹ نہ آئی تو اگلا مرحلہ بیس کیمپ اور پھر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سکردو منتقلی کا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ جب ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت برآمد ہوئی تو خاندان والوں نے ان رضاکاروں کو ان کی محنت کا صلہ دینا چاہا تاہم انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انھوں نے یہ کام فقط اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔۔
محبوب علی ارندو۔۔ ایک سماجی کارکن بھی
محبوب علی ارندو اپنے گاؤں کی تعلیمی بہتری کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ سپانٹک روانگی سے قبل بھی وہ اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی اور ان کی ٹیم کی اس بے لوث خدمت کو بہت سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شگر کی سرزمین نے ایسے نوجوان پیدا کر کے دنیا کو انسانیت کا ایک نیا سبق دیا ہے۔
چوٹی سر کرنے والی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش کیسے ملی؟*
جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان کے خاندان نے اس مشکل اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے اپریشن کے رضاکاروں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کی۔ ان 6 نوجوانوں نے یہ رقم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔ جس کام کے لیے مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے وہ انہوں نے ایک پیسہ لیے بغیر مکمل کر دکھایا۔
ماجرا کیا تھا؟
34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ برطانیہ میں مقیم تھیں جہاں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ طب کے پیشے کے ساتھ ساتھ انھیں کوہ پیمائی، سفر اور ٹریول ولاگنگ سے خاص دلچسپی تھی۔
وہ پانچ رکنی پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں جس نے قراقرم میں واقع 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی۔ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر انھیں اچانک شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی ممکنہ وجہ بلند مقام کی مخصوص بیماری بتائی گئی۔ ساتھی ماؤنٹین گائیڈز کی بھرپور کوشش کے باوجود 21 اگست کو کیمپ تھری پر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
لا۔۔ش دو ہفتے تک برف میں دبی رہی
مو۔ت کے بعد باقی ٹیم نیچے اتر آئی جبکہ ان کی میت سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دب گئی۔ ابتدائی کوششیں ناکام رہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں موسم کی شدت اور دشوار گزار راستوں نے کام مزید مشکل بنا دیا تھا۔ اسی دوران میت کی برآمدگی کے لیے خاندان سے مبینہ طور تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے۔ ان کے شوہر بھی بیرون ملک سے واپس آگئے تھے۔
6 رضاکاروں کا کارنامہ
بالآخر مبینہ طور پر شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں چھ رضاکار ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز سپانٹک روانہ ہوئے۔ اس ٹیم میں نواب عباس، حسین بیگ (مونٹنر)، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار شامل تھے۔ سخت موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود انہوں نے کیمپ تھری سے آگے سرچ آپریشن جاری رکھا اور آخرکار میت تلاش کر لی۔ ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق ٹیم میت کے ہمراہ کیمپ ٹو پہنچ گئی اور برفباری میں رکاوٹ نہ آئی تو اگلا مرحلہ بیس کیمپ اور پھر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سکردو منتقلی کا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ جب ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت برآمد ہوئی تو خاندان والوں نے ان رضاکاروں کو ان کی محنت کا صلہ دینا چاہا تاہم انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انھوں نے یہ کام فقط اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔۔
محبوب علی ارندو۔۔ ایک سماجی کارکن بھی
محبوب علی ارندو اپنے گاؤں کی تعلیمی بہتری کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ سپانٹک روانگی سے قبل بھی وہ اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی اور ان کی ٹیم کی اس بے لوث خدمت کو بہت سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شگر کی سرزمین نے ایسے نوجوان پیدا کر کے دنیا کو انسانیت کا ایک نیا سبق دیا ہے۔