August 29, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ٹھٹھہ (رپورٹ) کینجھر تھانے کی حدود میں کچی شراب کے مبینہ کاروبار نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے

IMG-20260828-WA0175
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ٹھٹھہ (رپورٹ) کینجھر تھانے کی حدود میں کچی شراب کے مبینہ کاروبار نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کینجھر تھانے کی حدود میں واقع گاؤں حاجی سومار میر بحر میں مبینہ طور پر نشے کی حالت میں برکت علی ولد عبدالغنی نے خود کو آگ لگا کر جھلسا لیا۔ ورثاء نے اسے تشویشناک حالت میں سول اسپتال مکلی منتقل کیا، جہاں سے حالت مزید خراب ہونے کے باعث اسے جناح اسپتال کراچی ریفر کر دیا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کینجھر تھانے کی حدود میں کچی شراب اور دیگر منشیات کی مبینہ فروخت کے باعث کئی گھر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ کچی شراب کی سرعام فروخت کے حوالے سے پولیس کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھ رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر منتھلی وصول کی جاتی ہے، جس کے باعث کچی شراب کا کاروبار بڑھتا جا رہا ہے۔رہائشیوں کے مطابق منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث پولیس اہلکاروں پر نشے کے عادی افراد کی جانب سے حملوں کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس کی تازہ مثال سونڈا میں دورانِ ڈیوٹی کانسٹیبل بلاول ٹھینگو پر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ ہے۔ علاقہ مکینوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، کچی شراب، ٹھرا اور آئس سمیت دیگر منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جبکہ کینجھر تھانے کے متعلقہ اہلکاروں کی مبینہ غفلت کا بھی نوٹس لیا جائے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0