جتوئی اور کھوسو برادری کے درمیان خونی تنازع کے تصفیے کی کوششیں تیز، فریقین فیصلہ کرنے پر آمادہ
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین)جتوئی اور کھوسو برادری کے درمیان جاری خونی تنازع کے خاتمے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے صلح و تصفیے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ سندھ حکومت کی ہدایات پر انتظامیہ کی جانب سے دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں فریقین کے معززین نے تنازع کو باہمی مشاورت سے ختم کرنے اور باقاعدہ فیصلہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ذرائع کے مطابق سابق رکن سندھ اسمبلی عابد خان جتوئی کی قیادت میں جتوئی برادری کے معززین پر مشتمل وفد سائٹ ایریا پہنچا، جہاں کھوسو برادری کے معززین، سوہنوں خان کھوسو اور دیگر نے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں برادریوں کے عمائدین کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں جاری کشیدگی، ماضی کے واقعات اور تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے مختلف امور پر اہم مشاورت کی گئی۔مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مزید خونریزی اور کشیدگی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، لہٰذا باہمی رضامندی اور جرگہ روایات کے تحت تنازع کا پائیدار تصفیہ تلاش کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے باقاعدہ فیصلہ منعقد کرنے اور تمام معاملات کو مشاورت سے طے کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جتوئی اور کھوسو برادری کے معززین کے درمیان ہونے والی ملاقات کو تنازع کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں فریقین نے فیصلہ کے لیے مناسب تاریخ مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ جلد حتمی تاریخ کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد دونوں برادریوں کے معززین کی موجودگی میں باقاعدہ فیصلہ منعقد ہوگا۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بھی دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل کی قیادت میں انتظامیہ کی جانب سے دونوں فریقین پر تنازع کے خاتمے اور امن قائم رکھنے کے لیے دباؤ رکھا گیا، جس کے بعد برادریوں کے عمائدین کے درمیان مفاہمت کا عمل آگے بڑھا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طے شدہ شیڈول کے مطابق فیصلہ منعقد ہوگیا اور دونوں فریقین نے اس کی پاسداری کی تو طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔انتظامیہ اور علاقے کے معززین نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فریقین باہمی اتفاقِ رائے سے تمام اختلافات ختم کرکے علاقے میں معمول کی صورتحال بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔









