google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0
9

مدثر عباس پاشا: سرگودھا کی صحافت کا ایک باوقار اور معتبر کردار خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

مدثر عباس پاشا: سرگودھا کی صحافت کا ایک باوقار اور معتبر کردار

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

سرگودھا کی صحافت سے متعلق متعدد اسماءے گرامی نامورہیں مدثر عباس پاشا بھی انہیں میں سے ایک ہیں جنہوں نے صحافت کو محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، مشن اور عوامی خدمت کا وسیلہ سمجھ کر اپنایا۔ ان کا صحافتی سفر 2003ء سے آج تک مسلسل محنت، جدوجہد، فیلڈ ورک، کیمرہ کاری، مشاہدے اور سچائی سے عبارت ہے۔
مدثر عباس پاشا ایک خوش اخلاق، ملنسار، ہردلعزیز اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ وسیع حلقہء احباب رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسے صحافی کی جھلک نمایاں ہے جو حالات کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ انہیں گہرائی سے سمجھنے اور عوام کے سامنے حقیقت کے آئینے میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ان کی گرانقدر خدمات ان کے وسیع صحافتی تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاس ہیں۔
صحافت، جوشِ خدمت اور نوجوانوں سے وابستگی
مدثر عباس پاشا کے مزاج میں سماجی خدمت کا جذبہ بچپن ہی سے موجود رہا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ان کے مسائل کی ترجمانی اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ان کے پسندیدہ موضوعات میں شامل رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کی حقیقی ترقی نوجوان نسل کو مثبت مواقع فراہم کرنے اور ان کی آواز کو مؤثر انداز میں متعلقہ حلقوں تک پہنچانے سے ممکن ہے۔
یہی سوچ ان کی صحافت میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ خبر صرف خبر نہ رہے بلکہ معاشرے کے مسائل کی نشاندہی اور بہتری کی طرف ایک قدم بنے۔
مدثر عباس پاشا کے صحافتی سفر میں کئی اہم سنگِ میل آئے۔ الیکٹرانک میڈیا کیمرہ مین ایسوسی ایشن کی رکنیت، سرگودھا یونین آف جرنلسٹس سے وابستگی اور سرگودھا پریس کلب کی رکنیت ان کی پیشہ ورانہ شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے روزنامہ جنگ، روزنامہ بسمل، روزنامہ سیاست، روزنامہ انصاف، صدائے وطن سمیت مختلف میڈیا اداروں اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کیا اور بدلتے ہوئے میڈیا کے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھا۔ پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور پھر جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک کا سفر انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا اور عملی طور پر اس کا حصہ بھی رہے۔
یہی وجہ ہے کہ مدثر عباس پاشا کو محض ایک صحافی کہنا ان کی خدمات کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ وہ فیلڈ رپورٹنگ، کیمرہ ورک، خبر کے مشاہدے اور زمینی حقائق تک رسائی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
مدثر عباس پاشا کے نزدیک ایک صحافی کی سب سے بڑی خوبی سچائی، دیانتداری، مشاہدہ، غیرجانبداری اور حقائق کی درست ترجمانی ہے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ صحافت ذمہ داری کا نام ہے اور صحافی کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حقائق کو ترجیح دینی چاہیے۔
ان کی رپورٹنگ کی نمایاں خصوصیات میں درست معلومات، بروقت رسائی، حقیقت پسندی اور زمینی حقائق سے وابستگی شامل ہیں۔ وہ سنسنی کے بجائے سچ کو اہمیت دینے کے قائل ہیں اور مستند معلومات کو صحافت کا بنیادی سرمایہ سمجھتے ہیں۔
اپنے طویل صحافتی سفر میں انہوں نے کئی سینئر صحافیوں اور اپنے وقت کے معتبر قلم کاروں سے سیکھا۔ ان شخصیات کی رہنمائی نے انہیں فیلڈ ورک، خبر کے معیار، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور صحافتی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی۔
میڈیا کی دنیا گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ ایک وقت تھا جب خبر کیمرے، نوٹ بک اور اخبار کے صفحات تک محدود تھی، پھر الیکٹرانک میڈیا کا دور آیا اور اب ڈیجیٹل میڈیا نے صحافت کے انداز ہی بدل دیے ہیں۔
مدثر عباس پاشا نے ان تمام تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا اور ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھایا۔ یہی پیشہ ورانہ جستجو ایک کامیاب صحافی کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ وقت کے ساتھ چلنے کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی اصولوں—سچ، دیانت اور حقیقت—کو بھی نہیں چھوڑتا۔
مدثر عباس پاشا کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کا انسانی رویہ بھی ہے۔ ساتھی صحافیوں، دوستوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ ان کا خوش اخلاق اور دوستانہ انداز انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی موجودگی محفل کو وقار بخشتی ہے اور جن سے مل کر انسان ایک مثبت احساس کے ساتھ واپس آتا ہے۔
ان کی صحافتی خدمات نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ نئی نسل کے صحافیوں کے لیے بھی ایک مثال ہیں کہ صحافت میں کامیابی صرف شہ سرخی بننے کا نام نہیں، بلکہ برسوں تک اصولوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا نام ہے۔
سالگرہ پر محبت بھرا خراجِ تحسین
ان دنوں مدثر عباس پاشا کی سالگرہ کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس خوشی کے موقع پر ان کے دوستوں، احباب اور صحافتی ساتھیوں کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ہم بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مدثر عباس پاشا کو جنم دن کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی، عزت، کامیابی اور خوشحالی عطا فرمائے، ان کے قلم اور کیمرے کو ہمیشہ حق اور سچ کی ترجمانی کی توفیق دے، ان کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کو خوشیاں نصیب فرمائے اور انہیں مستقبل میں بھی صحافت اور معاشرے کی خدمت کے مزید مواقع عطا کرے۔
مدثر عباس پاشا واقعی سرگودھا کی صحافت کا ایک ایسا نام ہیں جو محض تعارف نہیں بلکہ ایک پہچان ہے—سچا انسان، کھرا صحافی، باوقار شخصیت اور مسائل پر عقاب کی نگاہ رکھنے والا ایک باصلاحیت فیلڈ ورکر۔
سالگرہ مبارک مدثر عباس پاشا!
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں