پاکستانیوں! اپنے دلوں کو تھام لو! کیونکہ جو کچھ آپ یہاں دیکھنے جا رہے ہیں، وہ آپ کو زندگی میں کبھی نہیں دکھایا گیا ہو گا تاکہ کہیں آپ کا دماغ اور عقل روشن نہ ہو جائے اور آپ “زمہ داران” سے سوال کرنا شروع نہ کر دیں۔ کیونکہ ہمارے نظام، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے پاس ان سوالات کے جواب نہیں ہیں:
کیا آپ نے کبھی پاکستان کی گذشتہ 55سالہ تاریخ (history)، پاکستان کی چاروں بڑی سیاسی جماعتوں کو حکومت اور فوجی حکومتوں کی کارکردگی (performance) کو ایک صفحے (page) پہ دیکھا ہے؟
نہیں۔۔۔؟ چلیں آج دیکھ لیں!
گذشتہ 55 سالوں میں 20 سال فوجی حکومت (مارشل لاء)رہی، اور باقی 35 سالوں میں سے ساڑھے پندرہ سال پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی حکومت رہی، چودہ سال پاکستان مسلم لیک نون (PMLN) کی حکومت رہی، پانچ سال، پاکستان مسلم لیگ ق (PMLQ) کی اور پونے چار سال پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی۔ مطلب کٗل ملا کر، گذشتہ55 سالوں سے پاکستان کی سیاست تین حلقوں میں گھومتی رہی ہے یا گھومتی رہتی ہے: ملٹری، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی۔ایسا لگتا ہے کہ باقی پارٹیاں تو ان دو بڑوں پارٹیوں کو manage اور manipulate کرنے کے لیے بنائی گئیں۔ (اور ان پارٹیوں میں لوگ ادھر سے اٗدھر moveہوتے رہتے ہیں)۔
اب آجائیں کاردگی پہ:
گزشتہ 55 سالوں میں فوجی حکومتوں اور چاروں سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں کے دور میں پاکستان کے اداروں کے پاس 84 کھرب روپیہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اکٹھا کیا گیا اور 96 کھرب روپے قرضہ لیا گیا۔ مطلب کٗل ملا کر پاکستان کی حکومت اور اداروں کے پاس 170 کھرب کے وسائل تھے, جس میں سے ایک کھرب روپے تو سود کی مد میں آئی ایم ایف کو واپس چلے گئے، باقی بچے 169 کھرب روپیہ، وہ 169کھرب روپیہ کہاں لگا؟ اس کا حساب کدھر ہے؟ کیا اس 169کھرب روپے سے پاکستان کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے تھے؟ مثلا تعلیم، روزگار، بجلی، ٹیکنالوجی اور دیگر تمام سہولیات؟ آخر پیسہ کہاں جاتا ہے؟
آپ کا تعلق جس بھی پارٹی یا لیڈر کیساتھ ہے، اٗن سے سوال پوچھیں، کہ 169کھرب روپیہ کہاں گیا؟
اگلی بار جب آپ کے پاس ووٹ لینے آئیں تو پوچھیں کہ 169کھرب روپے کہاں گیا؟
اور اس صفحے کو اچھی طرح دیکھ لیں، پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت بچ تو نہیں گئی، جسے حکومت نہ دی گئی ہو؟ لیکن کیا مسائل حل ہوئے؟ نہیں۔۔۔۔! کیوں۔۔۔؟
اس کا جواب پاکستان کے موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے دے دیا ہے کہ پاکستان کا نظام پوری طرح سے خراب ہو چکا ہے، آپ جو بھی کر لیں یہ نظام درست نتائج پیدا نہیں کر سکتا، یہ نظام مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔
اگر 55 سال کا ڈیٹا، نمبرز اور حقائق یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ نظام اور سسٹم مسائل حل نہیں کر سکتا ہے، تو کیوں آپ ہر بار کسی نہ کسی نئے چہرے، نئے لیڈر یا نئی پارٹی سے اٗمید باندھ لیتے ہیں؟
کیا اس بات کی ضرورت نہیں کہ اس مسئلے کو اس زاویے سے بھی دیکھا جائے، جو محسن نقوی نے بھی شیئر کیا ہے سسٹم کو سرے سے (scratch سے) reset اور redesign کیا جائے اور نوجوان بھی اس مسئلے اور اس کے حل میں نہ صرف دلچسپی لیں بلکہ اس پہ غور فکر کریں کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے۔