6

منزہ انور گوئندی کا خصوصی ادبی دورہء برطانیہ خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

منزہ انور گوئندی کا خصوصی ادبی دورہء برطانیہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

پاکستان کی ادبی دنیا میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی شناخت صرف ان کی تحریروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کا کردار، ان کی علمی خدمات، ان کی رہنمائی اور ان کا ادبی وژن بھی ایک روشن مثال بن جاتا ہے۔ محترمہ منزہ انور گوئندی انہی ممتاز شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی علمی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
حالیہ دنوں ان کا دو ماہ کے ادبی دورے پر برطانیہ روانہ ہونا نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ پاکستانی ادب، بالخصوص سرگودھا ڈویژن کے ادبی حلقوں کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے۔ اس دورے کے دوران وہ مختلف ادبی، ثقافتی اور فکری تقریبات میں شرکت کریں گی اور عالمی سطح پر پاکستان کے ادب، زبان اور تہذیب کی نمائندگی کریں گی۔
منزہ انور گوئندی کی شخصیت کئی حوالوں سے نمایاں ہے۔ وہ ایک بہترین افسانہ نگار، محقق، نقاد، شاعرہ، کالم نگار اور براڈکاسٹر ہیں۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی شعور، فکری گہرائی، تہذیبی اقدار اور انسانی احساسات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ادب کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور فکری تربیت کا مؤثر وسیلہ سمجھا۔
سرگودھا ڈویژن میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، نوجوان لکھاریوں کی رہنمائی اور مختلف ادبی تنظیموں کی سرپرستی میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خود معیاری ادب تخلیق کیا بلکہ نئی نسل میں مطالعے، تحقیق اور تخلیقی اظہار کا ذوق بھی پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ادبی حلقوں میں بے حد احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ریڈیو پاکستان سرگودھا کے ساتھ ان کی طویل وابستگی بھی ان کی خدمات کا ایک اہم باب ہے۔ انہوں نے ادبی، ثقافتی اور سماجی پروگراموں کے ذریعے سامعین تک معیاری اور مثبت فکر پہنچائی۔ ان کی آواز، ان کا اسلوب اور ان کی علمی گفتگو آج بھی ریڈیو کے سامعین کے دلوں میں محفوظ ہے۔
آج جب دنیا گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے تو ادب بھی سرحدوں کا پابند نہیں رہا۔ ایسے میں پاکستانی ادیبوں کا عالمی ادبی فورمز پر جانا نہ صرف انفرادی کامیابی بلکہ قومی ثقافت اور اردو زبان کے لیے بھی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یقیناً منزہ انور گوئندی اپنی علمی بصیرت، وسیع مطالعے اور ادبی تجربے کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستان کا مثبت اور روشن تشخص اجاگر کریں گی۔
یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ اس دورے کے دوران مختلف ممالک کے ادیبوں، دانشوروں اور محققین سے ہونے والی ملاقاتیں نئے ادبی روابط کو فروغ دیں گی، جن کے مثبت اثرات مستقبل میں پاکستانی ادب پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسے علمی و ادبی تبادلے نہ صرف زبان و ادب کو وسعت دیتے ہیں بلکہ اقوام کے درمیان باہمی احترام، ہم آہنگی اور فکری مکالمے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
ادبی، تعلیمی، سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اپنی محنت، خلوص اور کردار سے ہر طبقۂ فکر کے دل میں عزت کمائی ہے۔
دعا ہے کہ محترمہ منزہ انور گوئندی کا یہ ادبی سفر کامیابیوں سے ہمکنار ہو، وہ عالمی سطح پر پاکستان کے ادب اور ثقافت کا مؤثر تعارف کرائیں اور نئے تجربات، نئی سوچ اور نئے ادبی روابط کے ساتھ وطن واپس آکر ہماری ادبی دنیا کو مزید مالا مال کریں۔ یقیناً ایسی شخصیات کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں، اور ان کی کامیابیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہوتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں