9

خیموں کا دارالحکومت: قیامِ پاکستان اور کراچی میں ریاستی ڈھانچے کی تعمیرِ نو

خیموں کا دارالحکومت: قیامِ پاکستان اور کراچی میں ریاستی ڈھانچے کی تعمیرِ نو

**1۔ پیش لفظ: ایک ریاست کا عدم سے وجود میں آنا**

14 اگست 1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کا ظہور ہوا، تو اس نوزائیدہ مملکت کے پاس نہ تو باقاعدہ مرکزی سیکریٹریٹ کی عمارتیں تھیں، نہ دفتری سامان، اور نہ ہی کوئی مستحکم انتظامی بنیاد۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد نئے دارالحکومت **کراچی** کی آبادی اور ذمہ داریوں میں یکدم بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

ان سخت حالات میں، بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لائق اور تجربہ کار افسران و ملازمین نے شدید مشکلات کے باوجود پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے تاریخی قربانیاں دیں۔

**2۔ لائف میگزین کی تصویر اور خیموں کا سیکریٹریٹ**

امریکہ کے معروف
**’لائف میگزین’ (LIFE Magazine)**

نے جون 1948ء کی اشاعت میں کراچی کی ایک تصویر شائع کی
(جو اوپر دیکھی جا سکتی ہے)۔
یہ تصویر محض ایک منظر نہیں بلکہ پاکستان کی ابتدائی انتظامی کسمپرسی اور جذبے کی سچی تصویر کشی کرتی ہے۔

تصویر میں کھلے میدان میں لگے
**سفید خیمے** دراصل پاکستان کا مرکزی سیکریٹریٹ اور مختلف سرکاری دفاتر تھے۔

سخت گرمی، چبھتی ہوئی دھوپ اور ریتلی ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں نے انہی خیموں میں بیٹھ کر نوزائیدہ مملکت کے تمام ملکی اور بین الاقوامی امور کو سنبھالا۔

**3۔ کیکر کے کانٹے اور دفتری خوداتکافی**

ابتدائی ایام میں مالی اور مادی وسائل کا یہ عالم تھا کہ کاغذات کو نتھی کرنے (Staple) کے لیے دفتری پنیں اور آلپینیں تک دستیاب نہیں تھیں۔

**دفتری ریکارڈ کا زندہ ثبوت**

اس بحران کا حل مقامی وسائل سے نکالا گیا۔ سرکاری افسران و عملہ کاغذات کو نتھی کرنے کے لیے
**کیکر (ببول) کے لمبے کانٹے**
استعمال کرتے تھے۔

آج بھی سندھ سیکریٹریٹ اور کراچی کے پرانے سرکاری دفاتر کے ریکارڈ رومز اور کباڑ خانوں میں 1947ء اور 1948ء کی ایسی فائلیں مل جاتی ہیں، جن کے اوراق کو کیکر کے کانٹوں سے پرو کر محفوظ کیا گیا تھا۔

**جمیل الدین عالی کی گواہی**

معروف ادیب، شاعر اور سابق بابائے قوم کے قریبی ساتھی
**جمیل الدین عالی** نے اپنے کالموں اور یادداشتوں میں اس دور کے تفصیلی احوال قلمبند کیے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں:
> *”کراچی میں ببول کے کانٹے تین آنے سینکڑہ بکتے تھے، جبکہ گھارو اور ٹھٹھہ کے علاقوں میں یہ ایک آنے سینکڑہ مل جاتے تھے۔
(اس وقت ایک روپئے میں 64 پیسے ہوا کرتے تھے)۔
وہ اور ان کے ایک دوست سائیکل پر گھارو اور ٹھٹھہ کا سفر کرتے اور ایک آنے سینکڑہ کے حساب سے کانٹے خرید کر لاتے تاکہ فی سینکڑہ دو آنے بچائے جا سکیں اور سرکاری خزانے و دفاتر کی ضرورت پوری ہو سکے۔”*

یہ واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کس طرح شدید کسمپرسی اور محدود وسائل کے باوجود نظم و نسق کو بلا تعطل جاری رکھا گیا۔

**4۔ مہاجر افسران کا کردار اور کراچی کی نمو**

بھارت سے آنے والے تعلیم یافتہ مہاجر افسران، قانون دانوں، اور انتظامی ماہرین نے کراچی کو محض ایک دارالحکومت نہیں بنایا بلکہ کچھ ہی عرصے میں اسے جنوب ایشیا کا ایک اہم تجارتی، انتظامی اور ثقافتی مرکز بنا دیا۔

* **انتظامی استحکام:**
محض چند سالوں میں ایک غیر منظم شہر کو ایک فعال اور مثالی دارالحکومت کا روپ دیا گیا۔

* **قربانی اور تعمرِ نو:**

اپنا سب کچھ چھوڑ کر آنے والے ان افراد نے ذاتی آسائشوں پر قومی مفاد کو فوقیت دی۔

**5۔ تاریخی تجزیہ اور انتظامی چیلنجز**

کراچی کی تاریخ میں یہ دور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
1948ء میں وفاقی دارالحکومت کا انتظامی علاقہ تشکیل دیا گیا تاکہ مرکزی حکومت آزادانہ طور پر اپنے امور انجام دے سکے۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کی آبادی میں دھماکہ خیز اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی منتقلی
(جب دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوا)، اور انتظامی تبدیلیاں وہ چیلنجز ہیں جن کا احاطہ آج کے المؤرخین اور ماہرینِ عمرانیات مسلسل کرتے رہتے ہیں۔

کراچی کی ترقی کی بنیاد انہی بنیادی قربانیوں اور ابتدائی ایام کے جذبے پر رکھی گئی تھی، جس نے اسے آگے چل کر پاکستان کی معاشی شاہ رگ بنایا۔

**از قلم:**
اختر روہیلہ
**پلیٹ فارم:**
وائس آف پاکستان (Voice of Pakistan)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں