4

ایران۔سعودی۔امریکہ۔اسرائیل کی مخالفت میں بیان بازی عروج پر ھے۔پہلے صرف اسرائیل امریکہ کی

ایران۔سعودی۔امریکہ۔اسرائیل کی مخالفت میں بیان بازی عروج پر ھے۔پہلے صرف اسرائیل امریکہ کی مخالفت ھوتی تھی لیکن اب سعودی اور ایرانی مخالفت بھی کھل کر ھورھی ھے۔دونوں ممالک نے اسلام کو نقصان پنچانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔دونوں میرے خیال میں یہود ونصاری کے انجینٹ ھیں۔صرف اپنے مفادات کے لیےیہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔کوئی اسلام نہیں ھے نہ اسلام کی جنگ ھے۔اسلام کی جنگ صرف غزہ میں ھے۔لیکن دونوں ممالک کا غزہ پر شرم ناک کردار ھے۔غزہ اجڑ گیا لیکن دونوں اسلام کے ٹھیکے داروں نے کیا کیا ھے اب تک غزہ کے لیے۔اگر سعودی نے کچھ نہیں کیا تو ایرانی نے گھر بلواکر قیادت شہید کروادی۔بدلے میں ایک دو شرلیاں چھوڑ کر بدلہ لے لیا۔لیکن یہ دوستی کی آڑ میں غداری تھی۔جب ایران پر اسرائیل اور امریکہ حملے کرتے ھیں جواب میں ایران کرتا ھے۔کبھی ایران غزہ کے لیے اسرائیل پر حملہ نہیں کیا۔جب کہ حزب اللہ کو بچانے کے لیے مزاکرات میں شرط رکھ دی لیکن غزہ کا ذکر تک نہیں کیا۔کیونکہ حزب اللہ اور انصار اللہ شعیہ ھیں اورایران کو اپنی پراکسیز کی فکر ھے اسی طرح سعودیہ نے طالبان اور شام کے داعشیوں کے لیے ریال بہائے اور اپنی پراکسیز کو بچاتے رھے۔یہ دونوں ملک اسلام کے لیے نہیں بلکہ رافضی اور سلفی مسلک کے لیے اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے مختلف ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ھیں۔پاکستان میں دونوں ممالک اپنے اپنے مدرسوں کو فنڈنگ کرتے ھیں اور اپنے اپنے مجاہدین کی مدد کرتے ھیں۔اب جب کہ یہ دونوں آمنے سامنے آرھے ھیں اور جنگ پھیل رھی ھے تو یہ صرف اپنے معاشی تحفظات کے لیے ایک دوسرے کو تباہ کررھے ھیں۔ہاں اسرائیل امریکہ کا کام آسان کررھے ھیں۔گریٹر اسرائیل بننے میں بڑی رکاوٹیں یہ خود ختم کردیں گے اور نہ بچے گا سعودیہ اور نہ بچے گا ایران۔صرف بچے گا اسرائیل اور گریٹر اسرائیل بنے گا مسجد اقصی شہید ھوگی۔اور پھر دجال آئے گا پھر امام مہدیؓ اور حضرت عیسی ؑ آھیں گے اور یہودی نصاری سب کا فر مریں گے۔ھمارا جو دور ھے یہ مسلمانوں کے زوال اور شدید افراتفری اور مشکلات کا دور ھے۔ایمان بچانا مشکل ھے۔اس لیے صرف ایمان بچانے کی فکر کریں۔یہ سعودیہ ایرانی بحث چھوڑیں۔اور پاکستان کی فکر کریں کہ ھمارے سیکورٹی ادارے کس کے اشارے پر قتل عام کررھے ھیں یہ کیا چاھتے ھیں۔یہ ظلم وستم کرکے عوام کی آواز کب تک دبا سکیں گے۔خدا را مزاکرات جو آپ امریکہ ایران کے کرا رھے ھیں اور دن رات ذلیل ھورھے ھیں انکو چھوڑو پہلے اپنی عوام سے مزاکرات کرو۔بصورت دیگر کوئی کامیابی آپ کے کام نھیں آئے گی۔مریدکے سے راولاکؤٹ تک لاشوں اور غداری کی سیاست ملک کو لے ڈوبے گی۔عوام کی نفرت کسی ملک کی فوج کو لے ڈوبتی ھے۔شخصی حکومت قائم کرنے کے لیے اپنے عربی اتحادیوں سے شاہد آپ نے یہ غنڈہ گردی سیکھی ھے۔کہ احتجاج کا حق بھی چھین لو۔اور اب امریکہ کو آپ کی ضرورت ھے اس لیے یہ بے غیرت بھی اب انسانی حقوق کو بھول چکا ھے۔یورپ خود انسانی حقوق کی پامالی کررھا ھے۔اور یہ عربی دیکھ لیں کس طرح اپنی حکومتوں سے لاتعلق ھیں۔جبکہ ایران کو ایک فائدہ ھے کہ اس نے اپنا لیڈر مرواکر عوام کو اکھٹا کرلیا ھے۔جبکہ پاکستان میں حکومت اور عوام میں دوریاں دن بدن بڑھ رھی ھیں جوکہ آنے والی جنگ کے لیے شاہد خطرناک صورتحال ھوگی کہ بارڈر پر لڑنے والوں کے لیے عوام کی ہمدردی اور محبت نہیں ھوگی۔۔خ ح شہزاد۔۔۔
دل کی بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں