6

آبنائے ہرمز کے بعد بحیرہ احمر میں کشیدگی، اب اس کے بعد کیا؟

آبنائے ہرمز کے بعد بحیرہ احمر میں کشیدگی، اب اس کے بعد کیا؟

خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر نئے حملوں سے تیل کی عالمی منڈی ایک بار پھر شدید دباؤ میں ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑی، تو عالمی معیشت پر اس کے مزید گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر نئے حملوں سے تیل کی عالمی منڈی ایک بار پھر شدید دباؤ میں ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑی، تو عالمی معیشت پر اس کے مزید گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

بحیرہ احمر کا راستہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو روزانہ تقریباً 68 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرنے کی سہولت فراہم کر رہا تھا، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی معمول کی یومیہ برآمدات کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین زاکس نے حوثیوں کے حملوں سے قبل گزشتہ منگل کے روز جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی، تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی تک خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

خلیجی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے دوبارہ آغاز کے تقریباً دو ہفتے بعد 23 جولائی کو بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ یہ گزشتہ ماہ کی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی اضافہ تھا۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کی بنیادی وجہ بحیرہ احمر میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہے، جس سے خلیجی ممالک کی جانب سے متبادل جنوبی راستوں کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز تو بدستور عملی طور پر بند ہے۔

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کیے اور خبردار کیا کہ وہ بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو مزید نشانہ بنا سکتے ہیں۔

بحیرہ احمر کا راستہ حالیہ بحران کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے ایک متبادل ذریعہ بن گیا تھا، جس کے ذریعے دونوں ممالک خلیج فارس سے باہر واقع بندرگاہوں تک پائپ لائنوں کے ذریعے جزوی طور پر تیل برآمد کر رہے تھے

بحیرہ احمر میں کشیدگی کا تیل کی عالمی منڈی پر کیا اثر پڑے گا؟
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہے تو آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد یہ توانائی کے عالمی شعبے کے لیے دوسرا بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے

توانائی سے متعلق تحقیقی ادارے رسٹاڈ انرجی کے سینئر نائب صدر اور جغرافیائی سیاسی تجزیے کے سربراہ جارج لیون کے مطابق حوثیوں کے حملوں سے قبل روزانہ تقریباً 25 لاکھ بیرل سعودی تیل باب المندب کے راستے منتقل کیا جا رہا تھا۔

بحیرہ احمر کا یہ راستہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو روزانہ تقریباً 68 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرنے کی سہولت فراہم کر رہا تھا، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی معمول کی یومیہ برآمدات کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

جارج لیون نے خبردار کیا کہ تیل کی عالمی منڈی اب بحیرہ احمر کے راستے پر پہلے سے کہیں زیادہ انحصار کر رہی ہے، اور اگر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر دونوں راستے ناقابل استعمال ہو گئے، تو تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دوبارہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین زاکس نے حوثیوں کے حملوں سے قبل گزشتہ منگل کے روز جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی، تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی تک خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے

تیل کی بڑھتی قیمتوں کا صارفین پر اثر کتنا جلد پڑے گا؟
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مختلف ممالک میں صارفین تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

امریکہ میں امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کے روز پٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو ایک ماہ قبل 3.92 ڈالر فی گیلن تھی۔

دوسری جانب جرمنی کے سب سے بڑے آٹوموبائل کلب اے ڈی اے سی کے مطابق بدھ کے روز ایک لیٹر پٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 2.15 یورو ہو گئی، جو عارضی امن معاہدے کے بعد ریکارڈ کی گئی حالیہ کم ترین سطح کے مقابلے میں 33 سینٹ زیادہ ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان اور فلپائن سے بھی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تاہم بھارت میں فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں زیادہ تر مستحکم ہیں، کیونکہ سرکاری تیل کمپنیاں عالمی منڈی میں اضافی لاگت کو فی الحال خود برداشت کر رہی ہیں، جس کے باعث صارفین پر اس کا براہ راست اثر ابھی تک محدود رہا ہے۔

چین کی بڑھتی ہوئی طلب بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے
ادھر تیل درآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین نے جنگ کے ابتدائی مہینوں میں کم طلب اور اپنے بڑے ذخائر کے باعث خام تیل کی درآمدات تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح تک محدود کر دی تھیں۔

تاہم تجارتی ذخائر بتدریج کم ہونے کے بعد متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیجنگ سال کے دوسرے نصف حصے میں خام تیل کی درآمدات میں دوبارہ اضافہ کرے گا، جس سے عالمی طلب بڑھے گی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں