8

ننکانہ صاحب: تھانہ بڑاگھر کے علاقہ برخوردار میں میٹرک کی طالبہ بے دردی سے قتل کر دی گئی

ننکانہ صاحب: تھانہ بڑاگھر کے علاقہ برخوردار میں میٹرک کی طالبہ بے دردی سے قتل کر دی گئی

“الٰہی! مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟” — ننکانہ صاحب میں ہوسِ زر اور جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھتی ایک اور بیٹی کو قتل کر دیا گیا

معاشرے میں جب حوس، انا اور لالچ رشتوں کے تقدس پر حاوی ہو جائیں، تو انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ مادی خواہشات اور زمین کے چند ٹکڑوں کی طمع نے ہمارے معاشرے کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں بیٹیوں کا خون پانی سے بھی سستا ہو گیا ہے۔
ضلع ننکانہ صاحب کی تحصیل ننکانہ کے علاقے برخوردار میں ایک ایسا ہی روح فرسا واقعہ پیش آیا، جس نے ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دہم کلاس کی معصوم طالبہ سعدیہ کو اس کے سگے چچا زاد بھائی، جاوید ولد عمر حیات نے چار سے پانچ نامعلوم درندوں کے ساتھ مل کر نہایت سفاکی اور بے رحمی سے قتل کر دیا۔ یہ قتل کسی عام ہتھیار سے نہیں بلکہ درندگی کی انتہا کرتے ہوئے ‘ٹوکے’ کے پے در پے ۔۔ وا ر کر کے کیا گیا۔ خون میں لت پت اس معصوم بچی کی چیخیں شاید ان قاتلوں کے پتھر دلوں کو نہ پگھلا سکیں، لیکن اس واقعے نے پورے علاقے کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔
قتل کا محرک: ڈھائی ایکڑ زمین اور جھوٹی انا
اس بہیمانہ قتل کے پیچھے چھپے حقائق اس سفاکیت سے بھی زیادہ تلخ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مقتولہ سعدیہ کے نام دو سے ڈھائی ایکڑ زرعی اراضی تھی۔ ملزم جاوید کی نظر اسی زمین پر تھی اور وہ اسی لالچ کے زیرِ اثر مقتولہ کا رشتہ مانگتا تھا۔ دوسری جانب مقتولہ کی والدہ اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی سگی بہن (مقتولہ کی خالہ) کے ہاں طے کر چکی تھیں۔
یہ بات ملزم جاوید کی جھوٹی انا پر ایک کاری ضرب تھی۔ رشتہ نہ ملنے کا غم، خفت اور ڈھائی ایکڑ زمین ہاتھ سے نکل جانے کے خوف نے اسے اس قدر اندھا کر دیا کہ اس نے خون کے رشتوں کی تمام حدیں پار کر لیں۔ لالچ کے اس عفریت نے ایک چچا زاد کو اس کی اپنی بہن جیسی کزن کا قاتل بنا دیا۔
، تاہم اس سفاکانہ واردات میں شامل۔ جاوید اور چار سے پانچ نامعلوم افراد تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ وہ نامعلوم افراد کون تھے؟ ان کا کیا مفاد تھا؟ اور انہیں کب کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو مقتولہ کے ورثاء قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس ان مفرور ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے سخت ترین تفتیش کرے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کا انصاف اکثر اندھا ہوتا ہے، لیکن ایک عدالت اس کائنات کے رب کی بھی ہے جہاں کوئی گواہ اور ثبوت نہیں چھپایا جا سکتا۔ روزِ محشر جب اعمال نامے کھلیں گے، تو یقیناً سعدیہ بھی ان معصوم بیٹیوں کی صف میں کھڑی ہوگی جن کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کیا ہے:
**”وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ”**
*(اور جب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی)*۔
قیامت کے دن سعدیہ بھی اللہ کی بارگاہ میں اپنا کٹا ہوا گلا لے کر فریاد کرے گی کہ “الٰہی! مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟ کیا میرا جرم وہ ڈھائی ایکڑ زمین تھی، یا میری ماں کا میری زندگی کے فیصلے کا حق استعمال کرنا؟”
آج سعدیہ تو منوں مٹی تلے سو جائے گی۔ لیکن اس کا خون ہمارے نظامِ انصاف اور ہمارے معاشرے کی بے حسی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر آج اس واقعے میں ملوث تمام درندوں کو سرِ عام نشانِ عبرت نہ بنایا گیا، تو کل کوئی اور لالچی جاوید کسی اور سعدیہ پر ٹوکہ اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گا۔ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ اس اندوہناک واقعے کا فوری نوٹس لیں اور مظلوم خاندان کو مکمل انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔اور قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے ۔۔مزید حقائق پولیس کی تحقیق و تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے

عابد چوہدری جرنلسٹ قصور صاحب: تھانہ بڑاگھر کے علاقہ برخوردار میں میٹرک کی طالبہ بے دردی سے قتل کر دی گئی

“الٰہی! مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟” — ننکانہ صاحب میں ہوسِ زر اور جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھتی ایک اور بیٹی کو قتل کر دیا گیا

معاشرے میں جب حوس، انا اور لالچ رشتوں کے تقدس پر حاوی ہو جائیں، تو انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ مادی خواہشات اور زمین کے چند ٹکڑوں کی طمع نے ہمارے معاشرے کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں بیٹیوں کا خون پانی سے بھی سستا ہو گیا ہے۔
ضلع ننکانہ صاحب کی تحصیل ننکانہ کے علاقے برخوردار میں ایک ایسا ہی روح فرسا واقعہ پیش آیا، جس نے ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دہم کلاس کی معصوم طالبہ سعدیہ کو اس کے سگے چچا زاد بھائی، جاوید ولد عمر حیات نے چار سے پانچ نامعلوم درندوں کے ساتھ مل کر نہایت سفاکی اور بے رحمی سے قتل کر دیا۔ یہ قتل کسی عام ہتھیار سے نہیں بلکہ درندگی کی انتہا کرتے ہوئے ‘ٹوکے’ کے پے در پے ۔۔ وا ر کر کے کیا گیا۔ خون میں لت پت اس معصوم بچی کی چیخیں شاید ان قاتلوں کے پتھر دلوں کو نہ پگھلا سکیں، لیکن اس واقعے نے پورے علاقے کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔
قتل کا محرک: ڈھائی ایکڑ زمین اور جھوٹی انا
اس بہیمانہ قتل کے پیچھے چھپے حقائق اس سفاکیت سے بھی زیادہ تلخ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مقتولہ سعدیہ کے نام دو سے ڈھائی ایکڑ زرعی اراضی تھی۔ ملزم جاوید کی نظر اسی زمین پر تھی اور وہ اسی لالچ کے زیرِ اثر مقتولہ کا رشتہ مانگتا تھا۔ دوسری جانب مقتولہ کی والدہ اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی سگی بہن (مقتولہ کی خالہ) کے ہاں طے کر چکی تھیں۔
یہ بات ملزم جاوید کی جھوٹی انا پر ایک کاری ضرب تھی۔ رشتہ نہ ملنے کا غم، خفت اور ڈھائی ایکڑ زمین ہاتھ سے نکل جانے کے خوف نے اسے اس قدر اندھا کر دیا کہ اس نے خون کے رشتوں کی تمام حدیں پار کر لیں۔ لالچ کے اس عفریت نے ایک چچا زاد کو اس کی اپنی بہن جیسی کزن کا قاتل بنا دیا۔
، تاہم اس سفاکانہ واردات میں شامل۔ جاوید اور چار سے پانچ نامعلوم افراد تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ وہ نامعلوم افراد کون تھے؟ ان کا کیا مفاد تھا؟ اور انہیں کب کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو مقتولہ کے ورثاء قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس ان مفرور ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے سخت ترین تفتیش کرے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کا انصاف اکثر اندھا ہوتا ہے، لیکن ایک عدالت اس کائنات کے رب کی بھی ہے جہاں کوئی گواہ اور ثبوت نہیں چھپایا جا سکتا۔ روزِ محشر جب اعمال نامے کھلیں گے، تو یقیناً سعدیہ بھی ان معصوم بیٹیوں کی صف میں کھڑی ہوگی جن کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کیا ہے:
**”وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ”**
*(اور جب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی)*۔
قیامت کے دن سعدیہ بھی اللہ کی بارگاہ میں اپنا کٹا ہوا گلا لے کر فریاد کرے گی کہ “الٰہی! مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟ کیا میرا جرم وہ ڈھائی ایکڑ زمین تھی، یا میری ماں کا میری زندگی کے فیصلے کا حق استعمال کرنا؟”
آج سعدیہ تو منوں مٹی تلے سو جائے گی۔ لیکن اس کا خون ہمارے نظامِ انصاف اور ہمارے معاشرے کی بے حسی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر آج اس واقعے میں ملوث تمام درندوں کو سرِ عام نشانِ عبرت نہ بنایا گیا، تو کل کوئی اور لالچی جاوید کسی اور سعدیہ پر ٹوکہ اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گا۔ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ اس اندوہناک واقعے کا فوری نوٹس لیں اور مظلوم خاندان کو مکمل انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔اور قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے ۔۔مزید حقائق پولیس کی تحقیق و تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں