تضادات اور منافقت کا عالم یہ ہے کہ 14 ویں ترمیم میں نواز شریف اور ن لیگ نے خود یہ اصول طے کیا تھا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی کسی بھی معاملے میں قیادت کی مرضی کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتا ۔ آج ان کی جماعت کا
تضادات اور منافقت کا عالم یہ ہے کہ 14 ویں ترمیم میں نواز شریف اور ن لیگ نے خود یہ اصول طے کیا تھا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی کسی بھی معاملے میں قیادت کی مرضی کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتا ۔ آج ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ اراکین کو مرضی کے مطابق اور پارٹی قیادت کی ہدایت کے خلاف ووٹ کی اجازت ہونی چاہیےتاکہ ضمیروں کی منڈیاں لگے اور اپنے مفادات کے لیے اخلاقیات اور آئین کا جتنا مزاق اڑایا جائے!
جی ہاں یہ وہی ن لیگ ہے جس نے پہلے الیکشن ٹربیونلز میں حاضر سروس ججز لگانے کی قانون سازی کی اور اب جب اپنی الیکشن چوری پکڑے جانے کا خوف پیدا ہوا تو پھر سے یوٹرن لے کے حاضر سروس کے بجائے ریٹائرڈ ججز کا الیکشن ٹربیونلز کا جج لگانے کا قانون پاس کروا لیا!
دوسری طرف نواز شریف کل بھی یہی کہہ رہا تھا کہ ہماری حکومت میں بجلی کے بل اتنے کم آتے تھے اور آج اتنے زیادہ ا رہے لیکن ان جاہلوں کو کوئی بتائے پچھلے 3 سال سے انہیں کی حکومت ہے.
لیکن مجال ہے جو ان جاہلوں کو عقل آ جائے!