13

میرا کوئی قصور نہیں ، میرے اندر جن آگیا تھا ۔۔۔۔۔

میرا کوئی قصور نہیں ، میرے اندر جن آگیا تھا ۔۔۔۔۔ 2022 میں لاہور میں اپنی ماں کو ق۔ت۔ل کرنے والے بیٹے کا بیان جو پولیس حراست میں ریکارڈ ہوا تھا ۔۔۔۔ یہ ایک بیوہ خاتون تھی جسکے 6 بیٹے تھے ،شوہر 2013 میں انتقال کر چکا تھا ، دکھی غریب ماں لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کرکے شوہر کی وفات کے بعد بچوں کو پال رہی تھی ۔ سب سے بڑا بیٹا بری صحبت میں پڑ گیا ابتدا میں اس نے چر۔س والے سگریٹ شروع کیے اور پھر ترقی کرتا پاؤڈر تک پہنچ گیا ۔۔ جب اسے ڈوز نہ ملتی تو اس کے بقول اس پر جن آجاتا تھا اور اسے ہوش نہ رہتا کہ وہ کیا کررہا ہے ، وقوعہ کے روز ماں کام سے واپسی پر سبزی لے کر گھر پہنچی تاکہ سالن بنا کر بچوں کو کھانا کھلائے ، لیکن اس بڑے بیٹے نے ماں سے پیسوں کا مطالبہ شروع کردیا ، خاتون کے پاس یقینا پیسے نہیں ہونگے اگر ہوتے تو وہ ضرور دیتی کہ اسے بیٹے کے حالات کا علم تھا ۔۔ ماں کے انکار پر بیٹے نے اسے اوپر منزل سے دھکا دے دیا خاتون سیڑھی پر سر لڑھکتی ہوئی نچلی منزل یعنی زمین پر آگری تو بیٹا بھی چھری اٹھائے پیچھے آیا اور پھر پوچھا پیسے دینے ہیں یا نہیں ؟ غصے میں ماں کے منہ سے بیٹے کے لیے بددعا نکلی تو بدبخت بیٹے نے ماں کو چھریوں کے وار کرکے شدید زخمی کردیا اور فرار ہو گیا ، محلے داروں نے 15 پر اطلاع کی , پولیس اور 1122 موقع پر پہنچے خاتون زخمی تھی اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ، اب حالات یہ تھے کہ باقی بچے چھوٹے تھے ، انکے جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی کوٹ عبدالمالک پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اپنی جیب سے بیوہ زخمی خاتون کا علاج کروایا مگر تین روز بعد خاتون جان بحق ہو گئی ، خاتون کے ق۔ت۔ل کا مقدمہ اسکے بیٹے کے خلاف درج ہوا اور محلے داروں کی مخبری پر پولیس نے چند روز بعد ہی اس بدبخت شخص کو گرفتار کر لیا تھا ۔۔ پولیس کی حراست میں صحافی قیصر خان سے بات چیت کرتے ہوئے ملزم کا کہنا تھا کہ اس پر جن آگئے تھے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ماں کو مار ڈالتا ، میرا کوئی قصور نہیں جو کروایا جنوں نے کروایا ہے ۔۔۔۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کو بھرپور چالان مرتب کرکے عدالت سے جیل بھجوا دیا تھا جہاں کئی ہفتے یہ شخص جن آنے کی وجہ سے تڑپتا رہا اور خصوصی علاج معالجے پر بعد ازاں اسکی حالت بہتر ہوئی تھی ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں