وفاقی پارلمانی سیکرٹری برائے وزارت مواصلات و ایم این اے انجینیئر ملک گل اصغر خان بگھور کے کوآرڈینیٹر انجینیئر ملک طاہر ندیم بگھور کی میڈیا بریفنگ
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
ترقی کا حقیقی معیار صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات، خصورصاً پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم اور بہتر انفراسٹریکچر کی فراہمی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ تھل کے عوام کی دیرینہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت مواصلات و رکن قومی اسمبلی انجینیئر ملک گل اصغر خان بگھور کی قیادت میں ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار ان کے کوآرڈینیٹر انجینیئر ملک طاہر ندیم بگھور نے پاکستان ہاؤس میں نورپور تھل پریس کلب کے صدر سیٹھ ثمر سلطان اور دیگر صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انجینیئر ملک گل اصغر خان بگھور کا مقصد صرف ترقیاتی اعلانات نہیں بلکہ ایسے منصوبے مکمل کرنا ہے جن کے ثمرات عوام کو عملی طور پر حاصل ہوں۔
تھل کا خطہ طویل عرصے سے پینے کے صاف پانی کی قلت کا شکار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ مختلف دیہات میں ایک درجن فلٹریشن پلانٹس کی فراہمی اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ چوہا، ٹکوچ، کالی بیس، چوسو، گولے والی، اوکھلی مولا، نواں لوگ، چک 40، چک 48، روڈہ، ہموکہ اور چن میں صاف پانی کی سکیموں کی تکمیل سے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔ مزید برآں ڈھمک، راہداری، جھرکل اور دیگر گنجان آباد ڈیرہ جات میں بھی فلٹریشن پلانٹس کی فراہمی کا منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی کا دائرہ صرف چند علاقوں تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔
تھل، کدھی اور مہاڑ جیسے علاقے طویل عرصے تک بنیادی سہولیات سے محروم رہے، مگر اب امید کی نئی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ منصوبے بروقت اور شفاف انداز میں مکمل ہوتے ہیں تو نہ صرف عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا بلکہ صحت کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی، کیونکہ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
علاقے کی تعمیر و ترقی صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ بہتر سڑکیں، جدید مواصلاتی نظام، تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع بھی اسی ترقیاتی سفر کا حصہ ہونے چاہییں۔ عوام کی توقع ہے کہ جن میگا پراجیکٹس کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ جلد عملی شکل اختیار کریں گے اور تھل کے عوام کو بھی دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے مساوی سہولیات میسر آئیں گی۔
یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ منتخب عوامی نمائندے اور ان کی ٹیم میڈیا کے ذریعے عوام کو ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کر رہے ہیں۔ شفافیت اور عوامی اعتماد اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب منصوبوں کی تفصیلات اور ان پر ہونے والی پیش رفت مسلسل عوام کے سامنے رکھی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا سفر صرف حکومت یا منتخب نمائندوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کی شمولیت، نگرانی اور تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر تمام فریق اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب تھل کا شمار بھی پنجاب کے ترقی یافتہ علاقوں میں ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی، بنیادی انفراسٹریکچر کی بہتری اور مجوزہ میگا پراجیکٹس تھل کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کو بروقت، شفاف اور معیاری انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام ترقی کے ثمرات کو اپنی زندگی میں محسوس کر سکیں۔ یہی حقیقی عوامی خدمت اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔