سکھر یورو چیف سید نصیر حسین زیدی ان لاین ۔یوز چینل
سرسو کا صنفی بنیادوں پر تشدد سے متعلق آگاہی سیمینار منعقد
سکھر: سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو) نے صنفی بنیادوں پر تشدد (GBV) کے حوالے سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا۔ سیمینار کا مقصد شراکت داروں میں آگاہی پیدا کرنا، اجتماعی کوشوں کو فروغ دینا اور متاثرین کے لیے ریفرل میکنزم کو مضبوط بنانا تھا۔
سیمینار کی صدارت انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اسکلز ڈیولپمنٹ کے منیجر زبیر سومرو نے کی جبکہ سیمینار کا انتظام سرسو ضلعی دفتر سکھر نے کیا۔ سیمینار میں سرکاری محکموں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور کمیونٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکت کرنے والوں میں سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ، پاکستان بیت المال، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ اور پی ایچ آر او کے افسران شامل تھے۔ اس کے علاوہ آئی او ایم، ساحل، ناری فاؤنڈیشن، ایف آر ڈی پی اور گوٹھ سنگار فاؤنڈیشن اور دیگر مقامی این جی اوز کے نمائندے بھی موجود تھے۔ جبکہ کمیونٹی آرگنائزیشنز (COs)، ولیج آرگنائزیشنز (VOs) اور لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز (LSOs) کے نمائندوں نے بھی سیمینار میں حصہ لیا۔
شرکت کنندگان کو خوش آمدید کہتے ہوئے سرسو سکھر کے ضلعی منیجر خان محمد نے صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اور اس کے تدارک کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
سیمینار میں زبیر سومرو نے صنفی بنیادوں پر تشدد کی مختلف اقسام جیسے جسمانی، جنسی، جذباتی، سماجی اور معاشی تشدد پر روشنی ڈالی اور ان کے فرد، خاندان اور معاشرے پر اثرات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو بروقت طبی، قانونی، نفسیاتی اور حفاظتی خدمات فراہم کرنے کے لیے مؤثر ریفرل راستے قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔
مباحثے کے سیشن کے دوران مقررین نے اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔ احسان نے کہا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد صرف غربت یا ناخواندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ثقافتی روایات، سماجی رویوں اور برتاؤ میں جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کمیونٹی میں آگاہی بڑھانے اور ریفرل سسٹم کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہینڈس کے زاہد خاصخیلی نے کہا کہ صنفی امتیاز اکثر گھر سے ہی شروع ہوتا ہے جہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھانے یا دیگر وسائل میں بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے جیسے چھوٹے عمل بھی بچپن سے ہی عدم مساوات پیدا کرتے ہیں جو بعد میں متعصبانہ رویے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم ساحل کی نمائندہ نے کہا کہ خاندان بچے کی تعلیم کا پہلا مرکز ہے اور بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ گھر میں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں عزت، برابری اور مثبت پرورش کو فروغ دینا صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔
عبدالقدوس نے کہا کہ غربت بھی تشدد کی ایک بڑی وجہ ہے اور معاشی مواقع بہتر بنانے سے کمیونٹیز میں تشدد کے واقعات کم کیے جا سکتے ہیں۔
سیمینار میں سرسو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد ڈتل کلہوڑو نے خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء بالخصوص کمیونٹی کی خواتین کو حوصلہ دیا کہ وہ کم عمری اور جبری شادیوں جیسے نقصان دہ رسوم اور خواتین و بچیوں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ کمیونٹی کے افراد نے بھی اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔
سیمینار کے اختتام پر آئی او ایم کے نمائندے ضیاء نے کہا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کے تمام کیسز کو رازداری کے ساتھ حل کیا جائے اور متاثرین کو محفوظ جگہیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ خوف کے بغیر رپورٹ کر سکیں۔ انہوں نے طبی، قانونی، نفسیاتی اور حفاظتی مدد کے لیے مربوط ریفرل سروسز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
سیمینار کے آخر میں تمام شراکت داروں نے آگاہی مہم جاری رکھنے، ہم آہنگی بڑھانے اور صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اور متاثرین کی مدد کے لیے ریفرل میکنزم کو بہتر بنانے کا مشترکہ عزم کیا۔
آخر میں سرسو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد ڈتل کلہوڑو نے محفوظ اور جامع کمیونٹیز کی تعمیر کے لیے شرکاء کے عزم کو سراہتے ہوئے ان میں اسناد بھی تقسیم کیں۔