5

بابائے صحافت جی ایم کھچی — ایک شخصیت، ایک ادارہ، ایک عہد خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

بابائے صحافت جی ایم کھچی — ایک شخصیت، ایک ادارہ، ایک عہد

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

صحافت کسی بھی معاشرے کی فکری رہنمائی، عوامی شعور کی بیداری اور حق و سچ کی آواز بلند کرنے کا مقدس فریضہ ہے۔ اس شعبے میں وہی شخص دیرپا مقام حاصل کرتا ہے جو دیانت، اخلاص، جرات، کردار اور پیشہ ورانہ مہارت کو اپنا شعار بنائے۔ ضلع خوشاب کی صحافتی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کو بجا طور پر “بابائے صحافت” اور “سرمایۂ افتخار” کہا جائے تو وہ محترم ملک غلام محمد کھچی (جی ایم کھچی) ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جی ایم کھچی کو غیر معمولی صلاحیتوں، وسیع مطالعے، بہترین اسلوبِ تحریر اور اعلیٰ صحافتی بصیرت سے نوازا ہے۔ ان کی قلم کاری میں سچائی، متانت، شائستگی اور فکری گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری صحافتی زندگی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مثبت، متوازن اور تعمیری صحافت کو فروغ دیا، جو آج کے دور میں نوجوان صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
اگرچہ ان کا آبائی تعلق کھچی/میانوالی سے ہے، مگر کئی دہائیوں سے خوشاب میں سکونت اختیار کرنے کے باعث اب خوشاب ہی ان کی پہچان بن چکا ہے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا بڑا حصہ اسی دھرتی کی خدمت، عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور صحافت کے وقار کو بلند کرنے میں صرف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع خوشاب کی صحافتی تاریخ کا ذکر جی ایم کھچی کے تذکرے کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔
ملک غلام محمد کھچی طویل عرصے سے قومی اور علاقائی میڈیا سے وابستہ چلے آ رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ، جیو نیوز اور متعدد علاقائی اخبارات کے ذریعے انہوں نے صحافت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی خبروں، تجزیوں اور تحریروں نے ہمیشہ حقائق پر مبنی صحافت کی روایت کو مضبوط کیا اور عوامی اعتماد حاصل کیا۔
یہ بات میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ راقم (راجہ نورالہی عاطف ) سمیت ضلع خوشاب کے متعدد صحافیوں کو جناب جی ایم کھچی کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ انہوں نے ہمیشہ نئے آنے والے صحافیوں کی رہنمائی کی، انہیں صحافت کے بنیادی اصول سکھائے اور عملی زندگی میں دیانت، برداشت اور ذمہ داری کا درس دیا۔ اس اعتبار سے وہ محض ایک صحافی نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ اور اکیڈمی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
جی ایم کھچی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار، شائستہ مزاج اور وسیع حلقۂ احباب ہے۔ عوامی، سماجی، ادبی، تعلیمی، صحافتی، سیاسی، مذہبی اور کاروباری حلقوں میں انہیں یکساں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ محبت، رواداری اور خلوص کے ذریعے دل جیتے ہیں، یہی ان کی اصل کامیابی ہے۔
قومی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والے اعوان خاندان سے بھی ان کے دیرینہ اور باوقار تعلقات رہے ہیں۔ ممبر قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کے بزرگوں کے وہ معتمدِ خاص رہے، اور آج بھی پوری اعوان فیملی ان کا بے حد احترام کرتی ہے۔ اسی طرح سابق سینیٹر ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی سمیت ضلع خوشاب کی ممتاز سیاسی شخصیات بھی انہیں نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ یہ عزت کسی عہدے یا منصب کی مرہونِ منت نہیں بلکہ ان کی ساری زندگی کی دیانت، کردار اور خدمات کا اعتراف ہے۔
جی ایم کھچی ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی، عوامی شعور کی بیداری اور حقائق کی غیرجانبدارانہ ترجمانی ہے۔ انہوں نے کبھی ذاتی مفادات کو صحافتی اصولوں پر ترجیح نہیں دی بلکہ ہر دور میں سچائی اور ذمہ دار صحافت کا علم بلند رکھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسی عظیم اور ہمہ جہت شخصیت کے اوصاف کو چند سطور یا ایک کالم میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کی خدمات، کردار اور شخصیت پر کئی صفحات بھی کم محسوس ہوتے ہیں۔ تاہم یہ مختصر تحریر ان کی صحافتی عظمت، اخلاقی بلندی اور گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ فخرِ خوشاب، بابائے صحافت محترم ملک غلام محمد کھچی (جی ایم کھچی) کو صحت، عافیت، عزت، خوشیوں اور درازیٔ عمر سے نوازے، ان کا سایہ ہم سب پر قائم رکھے اور انہیں مزید طویل عرصے تک اپنی دانش، تجربے اور رہنمائی سے صحافت کے چراغ روشن رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں