*اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کو معمول کا حصہ بنائیں*
*گرم ترین موسم کی شدت کی وجہ سے ہونیوالے نقصانات سے بچاٶ کیلٸےاحتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے*
*ماہرینٍ صحت*
میلسی (محمدمختارسولگی ) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی کے میڈیکل أفیسر ڈاکٹر یوسف رضا، نجی ہسپتال(صدیقی ہسپتال) کے ایم ڈی ڈاکٹر غلام رضا شاہ، ڈاٸیریکٹرز، ڈاکٹر احمد رضا شاہ، ڈاکٹر اقراءیوسف، ڈاکٹر ماہم رضا و دیگرڈاکٹرز نے موجودہ گرم ترین موسمی صورت حال اور انکے اثرات کے متعلق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوٸے کہا اطلاعات کے مطابق اس سال پڑنیوالی گرمی کی شدت ماضی میں پڑنیوالی گرمی کی نسبت شدید ترین ہوگی۔ ان متوقع گرم ترین موسمی حالات میں شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شدید گرم موسم میں بلاوجہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔مجبوری کی صورت میں سر ڈھانپ کے رکھیں۔ساٸے کے نیچے رہنے کو تر جیح دیں۔ پانی زیادہ سے زیادہ پیٸیں۔انہوں نے کہا کہ اتنا شدید گرم موسم قوتِ مدافعت کو متاثر کرتا ہے، جان بوجھ کر یا لاعلمی میں تھوڑی سی لاپرواٸی جانی نقصان یا طبعی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے،اس لیے شہری موسم کے مطابق لباس و خوراک کا اہتمام کریں۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو شدید گرمی سے محفوظ رکھیں۔ڈاکٹرز نے مزید کہا کہ مختلف امراض کے شکار مریض اپنی دوائیں معالج کے مشورے پر باقاعدگی سے استعمال کریں اور معالج کے مشورے کے بغیر کوئی دوالینے کا رسک نہ لیں تاکہ زندگی کے نقصان یا کسی قسم کے شدید ری ایکشن کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر ،ہیٹ اسٹروک ،ڈی ہاٸیڈریشن، بخار، کھانسی ،سانس لینے میں دشوارییا کسی بھی قسم کی طبعی دشواری محسوس ہو تو فوراً تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میلسی یا نزدیکی ہسپتال سے رجوع کریں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، احتیاط سے جان لیوا اور موذی امراض سے بچا جاسکتا ہے،لہٰذا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کو معمول کا حصہ بنائیں۔