5

*قیامت کی نشانیاں*

*قیامت کی نشانیاں*

جمعہ 03 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

قیامت کی نشانیاں (علاماتِ قیامت) وہ باتیں اور واقعات ہیں جن کی پیش گوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تاکہ مسلمان آنے والے وقت کے فتنوں سے باخبر رہیں۔ علماء نے ان نشانیوں کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے: وہ نشانیاں جو پوری ہو چکی ہیں، وہ جو اب پوری ہو رہی ہیں (یعنی علاماتِ صغریٰ/چھوٹی نشانیاں)، اور وہ جو بالکل قیامت کے قریب ظاہر ہوں گی (یعنی علاماتِ کبریٰ/بڑی نشانیاں)۔
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
وہ نشانیاں جو پوری ہو چکی ہیں

* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت (دنیا میں تشریف آوری) اور آپ کی وفات۔

* شق القمر (چاند کا دو ٹکڑے ہونا) جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں معجزے کے طور پر ہوا۔

* حجاز (عرب) کی زمین سے ایک عظیم آگ کا نکلنا، جس کی روشنی سے شام کے شہر بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں نظر آنے لگیں۔ یہ واقعہ تاریخ میں (654 ہجری میں) رونما ہو چکا ہے۔

* بیت المقدس کی فتح (جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی)۔
وہ نشانیاں جو ہمارے دور میں پوری ہو رہی ہیں (علاماتِ صغریٰ)
یہ وہ نشانیاں ہیں جن کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آج ہم اپنی آنکھوں سے انہیں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں:

* عمارتوں میں مقابلہ بازی: ننگے پاؤں اور غریب چرواہے (عرب کے لوگ) بڑی بڑی اور اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ آج دبئی اور سعودی عرب کے برج اس کی واضح مثال ہیں۔

* وقت کا تیزی سے گزرنا: سال مہینے کی طرح، مہینہ ہفتے کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح جلدی گزر جائے گا۔

* مال کی کثرت: لوگوں کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ زکوٰۃ لینے والے مشکل سے ملیں گے۔

* علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا: سچے علمائے دین دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور لوگ جاہلوں کو اپنا رہنما بنا لیں گے۔

* نااہل لوگوں کو عہدے ملنا: جب امانت داری ختم ہو جائے گی اور عہدے ان لوگوں کو دیے جائیں گے جو اس کے اہل نہیں ہوں گے۔

* بے حیائی اور ناچ گانے کی کثرت:
گانے بجانے کے آلات اور بے حیائی عام ہو جائے گی اور اسے برا نہیں سمجھا جائے گا۔

* قتل و غارت گری کی کثرت: زمین پر ہر طرف ناحق قتل عام ہوگا، یہاں تک کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ وہ کیوں مارا گیا۔

* سود اور شراب کا عام ہونا: سود اور شراب کو نئے نئے نام دے کر معاشرے میں عام کر دیا جائے گا۔
وہ بڑی نشانیاں جو ابھی باقی ہیں (علاماتِ کبریٰ)
یہ وہ دس بڑی نشانیاں ہیں جو ابھی باقی ہیں اور جب ان میں سے پہلی نشانی ظاہر ہوگی تو باقی نشانیاں تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد ایک تیزی سے ظاہر ہوں گی:

* حضرت امام مہدی کا ظہور: وہ مسلمانوں کے خلیفہ بن کر آئیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

* دجال کا نکلنا: وہ کانا ہوگا اور دنیا میں سب سے بڑا فتنہ مچائے گا، خدائی کا دعویٰ کرے گا۔

* حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول: وہ آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے منارے پر اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

* یاجوج و ماجوج کا نکلنا: یہ ایک بہت بڑی اور مفسد قوم ہے جو دیوارِ ذوالقرنین کے پیچھے قید ہے، وہ نکل کر ہر طرف تباہی پھیلائے گی۔

* دھواں (دخان): ایک ایسا دھواں ظاہر ہوگا جو پوری زمین کو گھیر لے گا، اس سے کافروں پر غشی طاری ہوگی اور مومنوں کو زکام جیسی کیفیت ہوگی۔

* دابۃ الارض کا نکلنا: زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور ایمان والوں اور کافروں کے چہروں پر نشانی لگا کر انہیں واضح کر دے گا۔

* مغرب (پچھم) سے سورج کا نکلنا: جب ایسا ہوگا تو توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

* تین بڑے خسوف (زمین کا دھنسنا): ایک مشرق میں، دوسرا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
قیامت کی نشانیاں (علاماتِ قیامت) وہ باتیں اور واقعات ہیں جن کی پیش گوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تاکہ مسلمان آنے والے وقت کے فتنوں سے باخبر رہیں۔ علماء نے ان نشانیوں کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے: وہ نشانیاں جو پوری ہو چکی ہیں، وہ جو اب پوری ہو رہی ہیں (یعنی علاماتِ صغریٰ/چھوٹی نشانیاں)، اور وہ جو بالکل قیامت کے قریب ظاہر ہوں گی (یعنی علاماتِ کبریٰ/بڑی نشانیاں)۔
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
وہ نشانیاں جو پوری ہو چکی ہیں
* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت (دنیا میں تشریف آوری) اور آپ کی وفات۔
* شق القمر (چاند کا دو ٹکڑے ہونا) جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں معجزے کے طور پر ہوا۔
* حجاز (عرب) کی زمین سے ایک عظیم آگ کا نکلنا، جس کی روشنی سے شام کے شہر بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں نظر آنے لگیں۔ یہ واقعہ تاریخ میں (654 ہجری میں) رونما ہو چکا ہے۔
* بیت المقدس کی فتح (جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی)۔
وہ نشانیاں جو ہمارے دور میں پوری ہو رہی ہیں (علاماتِ صغریٰ)
یہ وہ نشانیاں ہیں جن کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آج ہم اپنی آنکھوں سے انہیں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں:
* عمارتوں میں مقابلہ بازی: ننگے پاؤں اور غریب چرواہے (عرب کے لوگ) بڑی بڑی اور اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ آج دبئی اور سعودی عرب کے برج اس کی واضح مثال ہیں۔
* وقت کا تیزی سے گزرنا: سال مہینے کی طرح، مہینہ ہفتے کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح جلدی گزر جائے گا۔
* مال کی کثرت: لوگوں کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ زکوٰۃ لینے والے مشکل سے ملیں گے۔
* علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا: سچے علمائے دین دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور لوگ جاہلوں کو اپنا رہنما بنا لیں گے۔
* نااہل لوگوں کو عہدے ملنا: جب امانت داری ختم ہو جائے گی اور عہدے ان لوگوں کو دیے جائیں گے جو اس کے اہل نہیں ہوں گے۔
* بے حیائی اور ناچ گانے کی کثرت: گانے بجانے کے آلات اور بے حیائی عام ہو جائے گی اور اسے برا نہیں سمجھا جائے گا۔
* قتل و غارت گری کی کثرت: زمین پر ہر طرف ناحق قتل عام ہوگا، یہاں تک کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ وہ کیوں مارا گیا۔
* سود اور شراب کا عام ہونا: سود اور شراب کو نئے نئے نام دے کر معاشرے میں عام کر دیا جائے گا۔
وہ بڑی نشانیاں جو ابھی باقی ہیں (علاماتِ کبریٰ)
یہ وہ دس بڑی نشانیاں ہیں جو ابھی باقی ہیں اور جب ان میں سے پہلی نشانی ظاہر ہوگی تو باقی نشانیاں تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد ایک تیزی سے ظاہر ہوں گی:
* حضرت امام مہدی کا ظہور: وہ مسلمانوں کے خلیفہ بن کر آئیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
* دجال کا نکلنا: وہ کانا ہوگا اور دنیا میں سب سے بڑا فتنہ مچائے گا، خدائی کا دعویٰ کرے گا۔
* حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول: وہ آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے منارے پر اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔
* یاجوج و ماجوج کا نکلنا: یہ ایک بہت بڑی اور مفسد قوم ہے جو دیوارِ ذوالقرنین کے پیچھے قید ہے، وہ نکل کر ہر طرف تباہی پھیلائے گی۔
* دھواں (دخان): ایک ایسا دھواں ظاہر ہوگا جو پوری زمین کو گھیر لے گا، اس سے کافروں پر غشی طاری ہوگی اور مومنوں کو زکام جیسی کیفیت ہوگی۔
* دابۃ الارض کا نکلنا: زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور ایمان والوں اور کافروں کے چہروں پر نشانی لگا کر انہیں واضح کر دے گا۔
* مغرب (پچھم) سے سورج کا نکلنا: جب ایسا ہوگا تو توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔
* تین بڑے خسوف (زمین کا دھنسنا): ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرہ عرب میں۔

* یمن سے ایک آگ کا نکلنا: یہ آگ لوگوں کو ہانک کر شام کے میدان (میدانِ محشر) کی طرف لے جائے گی۔
نکلنا: یہ آگ لوگوں کو ہانک کر شام کے میدان (میدانِ محشر) کی طرف لے جائے گی۔

کلام آخر:
موجودہ معلومات کے مطابق یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہماری زندگ میں جنرل قیامت نہیں آئے گی
رہی بات قیامت صغری کی اس کے بارے میں نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو مر گیا اس کی قیامت آگئی۔

الدعاء
یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث۔

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں