ابو مجھے بچے پسند ہیں لیکن اسپتال جانے سے ڈر لگتا ہے بیٹا پریشان نہ ہو ﷲ بہتر کرے گا تمہاری بھی اولاد ہوگی
تم پہلے دوسروں کے بچوں کے ساتھ تصاویر بنواتی تھی اب اپنے بچے ساتھ بنوانا ۔
لاہور کے علاقے شفیق آباد سے ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو شرمساار کر دیا ہے۔ 20 سالہ معصوم نور فاطمہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی (ڈیلیوری) کے لیے جس آپریشن تھیٹر میں جا رہی ہے، وہ دراصل موت کا کنواں ثابت ہوگا!
لواحقین کے مطابق، شفیق آباد کے ایک نجی اسپتال “فرحت کلینک” میں نور فاطمہ کو لایا گیا تھا۔ آپریشن کے نام پر اڑھائی لاکھ روپے اینٹھے گئے۔ دورانِ ڈیلیوری کلینک انتظامیہ کی شدید لاپرواہی کے باعث نور فاطمہ کی جان چلی گئی۔ لیکن بے حسی کی انتہا دیکھیے؛ ہسپتال انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ وہ لواحقین کو جھوٹے دلاسے دیتے رہے اور نور فاطمہ کی لاش کو ایک گھنٹے سے زائد وقت تک آپریشن تھیٹر میں ہی چھپا کر رکھا گیا۔
جب معاملہ حد سے بڑھنے لگا تو انتظامیہ نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے کہا کہ “مریضہ کی حالت غیر ہے، اسے فوری میو اسپتال لے جائیں”۔ یہی نہیں، بلکہ باڈی کو باہر نکالنے کے لیے مزید 50 ہزار روپے وصول کیے گئے اور مردہ حالت میں نور فاطمہ کو مصنوعی وینٹی لیٹر لگا کر روانہ کر دیا گیا۔ جب لواحقین میو اسپتال پہنچے تو وہاں کے ڈاکٹرز نے سر پکڑ لیا؛ انہوں نے بتایا کہ نور فاطمہ کی موت تو 2 گھنٹے پہلے ہی ہو چکی تھی!
علاقہ مکینوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ فرحت کلینک میں اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے 10 سے 12 کیسز ہو چکے ہیں، جہاں کئی معصوم لوگ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، مگر یہ قصاب خانہ اب بھی سرعام چل رہا ہے!
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس فرحت کلینک کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اس کے مالکان اور ذمہ دار عملے کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے؟ یا پھر ایک اور بیٹی کا خون فائلوں میں دبا دیا جائے گا؟
اس آواز کو اتنا پھیلائیں کہ حکامِ بالا تک پہنچے اور نور فاطمہ کے بوڑھے والدین اور لواحقین کو انصاف مل سکے
😓😓😓😓