*امت کی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت*
پیر 29 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
کلمہ ایک، خدا ایک، رسول ایک: پھر یہ دوریاں کیوں؟
آج جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مسجدیں الگ، منبر الگ، اور سب سے بڑھ کر دل الگ ہو چکے ہیں۔ جس امت کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا تھا، وہ آج فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ 1400 سال پہلے کی تاریخ کے وہ تلخ ابواب، جن کا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے تھا، انہیں آج ہم نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کا جواز بنا لیا ہے۔
آئیے! نفرتوں کے اس تپتے ہوئے صحرا میں قرآن و سنت کے ٹھنڈے چشموں سے سیراب ہوں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔
قرآن کا فیصلہ: تفرقہ جہنم کا گڑھا ہے
اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں مسلمانوں کو جتھہ بندی اور فرقوں میں بٹنے سے روکا ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ (سورہ آلِ عمران: 103)
غور کیجیے! اللہ نے دلوں کی الفت اور بھائی چارے کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ جب ہم نفرت پھیلاتے ہیں، تو ہم دراصل اللہ کی اس عظیم نعمت کی ناشکری کر رہے ہوتے ہیں۔
فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: مسلمان آئینہ ہے مسلمان کا
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے تاریخی موقع پر، جہاں امت کے حقوق متعین فرمائے، وہاں سختی سے تاکید کی تھی:
میرے بعد دوبارہ گمراہ یا کافروں جیسے نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو۔ (صحیح بخاری)
ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ کیا آج ہم اپنے کلمہ گو بھائی کو اپنی زبان کے تیروں اور طعنوں سے محفوظ رکھ پا رہے ہیں؟
سادات اور صحابہ: ایک ہی شجرِ طیبہ کے پھول
شیعہ اور سنی، دونوں مکاتبِ فکر کے مابین دوریوں کی سب سے بڑی وجہ تاریخ کی غلط تشریحات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار کی محبت اور صحابہ کرام کا احترام، یہ دونوں ایمان کا حصہ ہیں۔
سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ، خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ زہرا، امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کی محبت کے بغیر تو کسی مسلمان کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ دوسری طرف، صحابہ کرام وہ مقدس جماعت ہے جنہوں نے اس دین کو ہم تک پہنچانے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیے۔
ان دونوں عظیم ہستیوں کے گروہ ایک دوسرے کے رقیب نہیں، بلکہ ایک ہی شجرِ اسلام کی جڑیں اور شاخیں ہیں۔ ان کے ناموں پر آپس میں لڑنا جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
وقت کی پکار: برف پاشی اور دلوں کی صفائی
1400 سال گزر گئے۔ جن کے درمیان اختلافات تھے، وہ اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے حضور پہنچ چکے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن ہم سے یہ نہیں پوچھنا کہ کربلا میں کس کا کیا کردار تھا؟ بلکہ ہم سے ہمارے اپنے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
اگر ہم نے نفرت کے اس بازار کو بند نہ کیا، تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسا بارود کا ڈھیر دے کر جائیں گے جہاں سوائے تباہی کے کچھ نہ ہوگا۔
آئیں، آج ایک عزم کریں:
1۔ ہم زبان کو تالابند کریں گے: کسی کے مقدسات کی توہین نہیں کریں گے، اور نہ ہی کسی کے جذبات کو مجروح کریں گے۔
2۔ ہم دلوں کو وسیع کریں گے: اگر کوئی ہمارے نظریات سے اختلاف رکھتا ہے، تب بھی وہ ہمارا کلمہ گو بھائی ہے۔
3۔ ہم مشترکات پر جمع ہوں گے: ہمارا خدا ایک، ہمارا رسول ایک، ہمارا قبلہ ایک، اور ہمارا قرآن ایک ہے۔ جب اتنی بڑی بنیادیں ہمیں جوڑتی ہیں، تو چند فروعی اختلافات ہمیں کیسے جدا کر سکتے ہیں؟
آئیں! نفرت کی اس آگ پر محبت کی برف پاشی کریں۔ ہاتھ ملائیں، دل صاف کریں، اور دنیا کو بتائیں کہ محمد ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے سچے بھائی بھائی ہیں۔
کلام آخر:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک