*جیو کی گستا، خیوں سے ہوشیار*
جیو ٹی وی کے ڈرامہ “ضبط” کی قسط نمبر 20 میں نشر ہونے والا ایک منظر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آیا، جس میں اداکارہ سارہ اعجاز خان ایک ایسی کتاب پھینکتی دکھائی دیتی ہیں جس کے سرورق پر مسجد نبوی ﷺ کی تصویر موجود تھی۔ چونکہ کتاب کو “اسلامک اسٹڈیز” کی کتاب قرار دیا جا رہا تھا، اس لیے متعدد افراد نے اس منظر کو اسلامی شعائر کے احترام کے منافی قرار دیا۔
بعد ازاں یوٹیوب پر موجود اسی قسط میں یہ مخصوص منظر ہٹادیا گیا۔ بظاہر ایپی سوڈ کو حذف کرنے کے بجائے اس میں ترمیم (Edit) کرکے متعلقہ کلپ نکال دیا گیا، جو یوٹیوب پر موجود ویڈیو ایڈیٹنگ فیچر کے ذریعے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اپ لوڈ شدہ قسط میں وہ منظر دکھائی نہیں دیتا۔
اب یہ ڈرامے میں نادانستہ غلطی تو نہیں ہوسکتی ۔ پھینکنا ہی تھا تو شیکسپئر کا کوئی ناول وغیرہ پھینکا جاسکتا تھا ۔لیکن جیو نیوز عادی جرائم پیشہ ہے ۔ پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ اسلامی شعائر کو نشانہ بناتا آیا ہے ۔ اکثر صحافی صرف پروفیشنل کیئریر کی وجہ سے خاموش ہیں یا پھر اس کی حمایت کررہے ہیں۔
اب تو کوئی شک نہیں رہا کہ جیو اور جنگ گروپ نادانستہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر شعائر اسلام کو نشانہ بنارہے ہیں ۔
یہ ہے آزادی میڈیا، اسے پاکستانی معاشرے میں اسی لیے پروموٹ کیا جارہا ہے کہ آزادی کی آڑ میں یہ لبرل میڈیا آہستہ آہستہ مذہبی اور معاشرتی حدود کی خلاف ورزی کرے۔ ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
اب عوام کو سوچنا ہوگا کوئی ایکشن لے یا نہ لے، ہر ایسے چینل کا مکمل بائیکاٹ کریں، جب کوئی دیکھے گا ہی نہیں تو یہ اپنی موت آپ مرجائیں گے۔
اسلامی شعائر، مذہبی علامات اور مقدس شخصیات سے متعلق کسی بھی مواد کی تیاری میں میڈیا اداروں کو غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔