10

عقیل انجم اعوان — صحافت، قلم اور وقار کا درخشاں سفر خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

عقیل انجم اعوان — صحافت، قلم اور وقار کا درخشاں سفر

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سچائی، دیانت داری، غیر جانبداری اور عوامی خدمت کا جذبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں جب صحافت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں وہ شخصیات قابلِ ستائش ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو خلوص، جرأت اور دیانت داری کے ساتھ نبھا رہی ہیں۔ نامور سینئر صحافی، کالم نگار، فیچر رائٹر اور میگزین ایڈیٹر جہان پاکستان عقیل انجم اعوان انہی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور اعلیٰ صحافتی معیار کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
حال ہی میں بحریہ یونیورسٹی لاہور کی جانب سے عقیل انجم اعوان کو ان کی شاندار صحافتی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کموڈور عمران افتخار نے پیش کیا۔ بظاہر یہ ایک ایوارڈ ہے، لیکن درحقیقت یہ برسوں پر محیط انتھک محنت، دیانت دارانہ صحافت اور عوامی خدمت کے جذبے کا اعتراف ہے۔
عقیل انجم اعوان نے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری کے طور پر اختیار کیا۔ انہوں نے ہمیشہ ایسی صحافت کو فروغ دیا جو معاشرے میں مثبت سوچ، شعور، برداشت اور تعمیری اقدار کو فروغ دیتی ہے۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف عوامی مسائل کی حقیقی عکاسی ملتی ہے بلکہ ان مسائل کے حل کے لیے مثبت تجاویز بھی نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کالم اور مضامین عوامی و علمی حلقوں میں یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔
ایک کامیاب کالم نگار کے طور پر عقیل انجم اعوان نے اپنے قلم کو معاشرتی اصلاح، قومی یکجہتی اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے استعمال کیا۔ ان کی تحریروں میں گہرائی، تحقیق اور فکری پختگی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ ایسے موضوعات کو بھی مؤثر انداز میں اجاگر کرتے ہیں جن پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی۔ ان کی یہی خوبی انہیں دیگر قلم کاروں سے ممتاز بناتی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے جدید دور میں بھی عقیل انجم اعوان نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک ڈیجیٹل کرییٹر کی حیثیت سے انہوں نے صحافت کے جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسل تک مثبت اور مستند معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا وسیع مطالعہ، حالات حاضرہ پر گہری نظر اور حقائق پر مبنی تجزیہ ان کی کامیابی کا راز ہے۔
بحریہ یونیورسٹی لاہور کی جانب سے دیا جانے والا یہ اعزاز نہ صرف عقیل انجم اعوان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ صحافت کے اس روشن اور مثبت چہرے کا اعتراف بھی ہے جو معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے اعزازات نوجوان صحافیوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہوتے ہیں اور انہیں محنت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری کی ترغیب دیتے ہیں۔
تعلیمی، ادبی، صحافتی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے عقیل انجم اعوان کو دی جانے والی مبارکباد اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی خدمات کو معاشرے کے مختلف طبقات قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ مستقل مزاجی، محنت اور اخلاص کے ساتھ انجام دی گئی خدمات کبھی رائیگاں نہیں جاتیں بلکہ ایک دن ضرور اپنے اعتراف کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔
بلاشبہ عقیل انجم اعوان کا یہ اعزاز ان کے روشن صحافتی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ دعا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی علمی، ادبی اور صحافتی صلاحیتوں کے ذریعے قوم کی رہنمائی کرتے رہیں، نوجوان نسل کے لیے مثال بنیں اور مثبت صحافت کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتے رہیں۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے صحافتی حلقے کے لیے باعثِ فخر اور خوشی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں