11

بیو رو چیف و ہا ڑ ی اے حسین ابن علی تم پر سلام

بیو رو چیف و ہا ڑ ی

اے حسین ابن علی تم پر سلام

محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا اور حریت والے مہینوں میں سے ایک ہے جو نہایت عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے محرم الحرام اپنے ساتھ کربلا والوں کی یاد لاتا ہے شہدائے کربلا میں بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنتی نوجوانوں کے سردار، امام عالی مقام کی یاد ساتھ لاتا ہے جو ہمارے دلوں کو تڑپاتی ہے اور انکھوں کو اشکبار کرتی ہے میدان کرب و بلا میں پیش آنے والے مصائب و آلام جن کے تصور سے ہی ہماری روح کانپ اٹھتی ہے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں نے دین حق کی بقا کے لیے میدان کربلا میں لازوال قربانیاں پیش کی جو ہمیں صبر و استقامت اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے ان کی قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ چاہے کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نہ ہو دین حق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ۔
میدان کربلا کا واقعہ 61 ہجری کا واقعہ ہے کہ جب آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم کی انتہا کر دی گئی وہ جمعہ کا دن اور 10 تاریخ محرم تھی اس یوم عاشورہ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین پیارے نواسے حضرت امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر قیامت صغری قائم کی گئی۔
یزیدی فوج کا آل رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بے جا ظلم ، تیر و تفنگ، بے وطنی، بے آب و گیاہ میدان ، بظاہر میدان کربلا میں شمشیر و سناں کی فتح تھی، بدی کا غلبہ تھا ، شہیدوں کی بکھری ہوئی لاشیں، اہل بیت کے خیموں میں لپکتے ہوئے آ گ کے شعلے، تپتا صحرا ، یزیدی لشکر کا طبل فتح بجانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس بات کا فیصلہ تاریخ میں چھپا نہیں ہوا بلکہ صاف صاف واضح ہے کہ آج یزید حرف غلط کی طرح مٹ گیا ہے اور حسین ابن علی برس ہا برس بیت جانے کے باوجود بھی اپنی جرات و استقامت، راست بازی اور کلمۃ الحق کہنے کے لیے آج بھی زندہ ہیں۔
آج واقعہ کربلا کو مظلومیت کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے یزید کا 22 ہزار کا لشکر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے 72 کے لشکر کے مقابلے میں آیا تو وہ 22 ہزار کے لشکر کے ساتھ بھی ڈر رہا تھا اور مزید لشکر بھی منگوانا چاہتا تھا وہ یہ جانتے تھے کہ یہ حسین ابن علی ہیں ان کا ایک ایک بندہ ایک ہزار کے مقابلے میں لڑ سکتا ہے یہ کوئی مظلومیت کی داستان بالکل نہیں ہے بلکہ دلیری، شجاعت، صبر و استقامت، بلند حوصلے کا نام ہے۔

اے حسین ابن علی تم پر سلام
نازش آل نبی تم پر سلام

حسین ابن علی اپنے ایک بول پر اہل بیت اطہار کی جان بچا سکتے تھے، مال بچا سکتے تھے، اولاد بچا سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا ہرگز نہیں کیا بلکہ انہوں نے جنگ کرنا مناسب سمجھا ان کے ساتھ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے 72 جان نثاروں نے خود کو راہ خدا میں پیش کیا ان سب باتوں کے پیش نظر سید الشہداء امام حسین ابن علی کا شہادت گاہ تک آنا امر تکوینی کی تعمیل تھا۔

یہ کون ہے کٹا ہوا ، لباس ہے پھٹا ہوا
یہ بل یقین حسین ہے، نبی کا نور عین ہے

ہمیں بھی چاہیے کہ یوم عاشورہ کا روزہ رکھیں اور خوب عبادات کریں اس ماہ میں عبادت کو خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل ہے اور ہمیں توبہ و استغفار کے ذریعے اللہ تعالی کی قربت حاصل کرنی چاہیے ۔ بالخصوص ہمیں اس ماہ کے تقدس کو پہچاننا چاہیے۔ ہمیں یوم عاشورہ کے دن شہدائے کربلا کے ایصال ثواب کے لیے قران خوانی، ذکر و درود اور نذر و نیاز کا اہتمام کرنا چاہیے۔اور اس کے علاوہ عاشورہ کے دن صدقہ و خیرات، نیکی، ایثار اور صلہ رحمی کرنے کا بھی دگنا اجر ملتا ہے۔
جب تک ستارے جھلملاتے رہیں گے اور سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روشنی پھیلاتا رہے گا اور جب تک اس دنیا میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لینے والا ایک بھی فرد باقی رہے گا ذکر حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہوتا رہے گا ۔
شہادت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا تذکرہ اہل ایمان کو ایک نیا عزم اور تازہ ولولہ بخشتا رہے گا ۔

سر شہیدان محبت کے ہیں نیزوں پر بلند
اور اونچی کی خدا نے قدر و شان اہل بیت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں