10

میلسی( بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ – عدل وانصاف کے پیکر تھے

میلسی( بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ – عدل وانصاف کے پیکر تھے

تاریخِ اسلام کے سنہرے اوراق میں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا نام عدل و انصاف کی علامت بن کر چمکتا ہے ان خیالات کا اظہارملک محمد اقبال مدنی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سیدنا فاروق خلافتِ راشدہ کے دوسرے خلیفہ تھے جنہوں نے اسلام قبول کرتے ہی مسلمانوں کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ مکہ کی گلیوں میں جب اسلام قبول کرنے والے ستائے جاتے تھے، تو عمر فاروق رضي الله عنه کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو پہلی بار کعبہ میں کھلے عام نماز پڑھنے کی جرات ملی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی حق پرستی کو دیکھ کر انہیں “الفاروق” کا لقب دیا، یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا فاروق
رضى الله عنه
کی دس سالہ خلافت 13 ہجری سے 23 ہجری تک صرف حکومت کا دور نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل نظامِ عدل کی بنیاد تھی۔ انہوں نے بیت المال قائم کیا، ہجری تقویم کا آغاز کروایا، پولیس ، جیل اور ڈاک کا نظام مرتب کیا اور زمینوں کی پیمائش کروا کر ٹیکس کا منصفانہ نظام بنایا۔ رات کے وقت مدینہ کی گلیوں میں خود گشت کرتے اور یہ فکر رکھتے کہ کوئی بھوکا نہ سو جائے۔ ان کا یہ قول آج بھی حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ “اگر دریائے دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے بازپرس ہوگی”۔ ان کی شخصیت میں ہیبت بھی تھی اور رحم بھی۔ دشمن ان کے نام سے کانپتے تھے، مگر ایک غریب بیوہ بھی بلا روک ٹوک ان تک اپنا دکھ پہنچا سکتی تھی۔

26 ذوالحجہ 23 ہجری کو فجر کی نماز کے دوران ابو لؤلؤ فیروز کے خنجر کے وار سے زخمی ہوئے اور تین دن تک امت کی فکر میں مبتلا رہے۔ بالآخر 1 محرم 24 ہجری کو وہ شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے اور مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ سیدنا عمر فاروق کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل قیادت تخت و تاج نہیں بلکہ ذمہ داری اور انصاف کا نام ہے۔ کاش آج کے حکمران بھی ان کے نقشِ قدم پر چلیں تو دنیا جنت نظیر بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں