7

میرپورخاص (شاھدمیمن) روٹری کلب میرپورخاص گریٹر ڈسٹرکٹ 3271 اور ادارہ دستک کے زیر اہتمام

میرپورخاص (شاھدمیمن) روٹری کلب میرپورخاص گریٹر ڈسٹرکٹ 3271 اور ادارہ دستک کے زیر اہتمام معروف شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم ڈاکٹر حبیب الرحمن چوہان کے نئے شعری مجموعے ’’اک اور شام ڈھل گئی‘‘ کی تقریب رونمائی، ادبی نشست اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ سیکریٹری روٹری فرقان علی شیخ، ابن سینا یونیورسٹی کے پرو چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شمس العارفین خان، رجسٹرار سید شکیب الحسن سمیت روٹیرینز، ادبی، علمی، سماجی شخصیات اور شعر و ادب سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب کی مجلس صدارت میں نامور شاعر، ادیب اور محقق ڈاکٹر جاوید منظر اور ممتاز ادیب و محقق پروفیسر ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی شریک تھے جبکہ محمد حسین ماہر اجمیری اور پروفیسر مرزا سلیم بیگ نے مہمانان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی تقریب کا آغاز حافظ حبیب اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر اسد شوکت نے انجام دیے میزبان مقرر پروفیسر نوید سروش نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ڈاکٹر حبیب الرحمن چوہان کی ادبی خدمات اور شعری سفر پر روشنی ڈالی اپنے خطاب میں ڈاکٹر حبیب الرحمن چوہان نے کہا کہ ان کا شعری مجموعہ ’’اک اور شام ڈھل گئی‘‘ زندگی کے مختلف تجربات، انسانی احساسات، محبت، ہجر اور معاشرتی مشاہدات کا عکاس ہے انہوں نے کہا کہ ادب اور شاعری معاشرے میں برداشت، محبت اور فکری شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں صدر مجلس ڈاکٹر جاوید منظر، پروفیسر ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی اور محمد حسین ماہر اجمیری نے ڈاکٹر حبیب الرحمن چوہان کی شاعری کو فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور عصری احساسات کا خوبصورت امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مجموعہ اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا انہوں نے میرپورخاص کی ادبی روایت کو زندہ رکھنے میں مقامی ادبی تنظیموں اور اہل قلم کے کردار کو بھی سراہا اس موقع پر روٹری کلب میرپورخاص گریٹر کے صدر ڈاکٹر زوار علی لغاری اور ڈپٹی گورنر روٹری و کلب سیکریٹری نعمان احمد خان نے کہا کہ ادب، ثقافت اور تخلیقی سرگرمیاں کسی بھی معاشرے کی شناخت ہوتی ہیں اور روٹری کلب مستقبل میں بھی ایسی علمی و ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی جاری رکھے گا شرکاء نے ابن سینا یونیورسٹی کی جانب سے فنون لطیفہ اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں واضع رہے کہ یہ کتاب بھی ابن سینا یونیورسٹی کے بزم ادب و فن کی جانب سے شائع کی گئی ہے بعد ازاں منعقدہ مشاعرے کی صدارت محمد حسین ماہر اجمیری اور ڈاکٹر جاوید منظر نے مشترکہ طور پر کی مشاعرے میں پروفیسر نوید سروش، پروفیسر اسد شوکت، ندیم خاور، ظہیر شمس، رشید سارب، ذوالفقار قائم خانی، حافظ حبیب اللہ، ڈاکٹر اقبال شاہ، شبیر جہانگیر سمیت دیگر شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد وصول کی تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی روایت کے مطابق اجرک کے تحائف پیش کیے گئے یہ اعزاز پروفیسر نوید سروش، دانش انڑ، نور محمد طالب، جاوید اقبال، یوسف چوہان، پریم کمار اور دیگر شخصیات نے انجام دیا بعد ازاں شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ بھی دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں