*وزیراعلیٰ سندھ ذرا دیکھ اِدھر*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
سندھ پاکستان کے صوبوں میں اپنی محل و وقع و جغرافیائی سطح اور موسمیاتی بنیاد پر جداگانہ پہچانا جاتا ھے۔ سندھ تقریباً نوے فیصد میدانی، پانچ فیصد ریگستانی اور پانچ فیصد چھوٹی بڑی پہاڑیوں پر مستمل ھے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اپنے وزراء و مشیران کو مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ غور و فکر اور تحقیق و جائزہ کے تحت سندھ بھر میں امور خدمات پر مرکوز رکھنا چاہئے کیونکہ سندھ اسمبلی و سندھ سیکریٹریٹ تمام کے تمام اعلیٰ عہدوں پر وڈیرے جاگیردار پر ہی مشتمل ھے اور یہی برجمان ہیں انہیں سندھ بھر کی زرعی و بنجر زمین کی کیفیت کا بخوبی اندازہ ھے۔ ہر سال سندھ بھر میں بارش کے سبب سیلاب سے فصلیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں، کئی گاؤں گوٹھ قصبے دیہات زیر آب ہونے کے سبب آفت زدہ قرار دیئے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ہر سال دیکھنے کو ملتی ھے دوسرا یہ موسم برسات گزرنے کے بعد کی صورتحال یہ ہوتی ھے کہ سندھ پیاسا بنجر کی جانب بڑھ جاتا ھے کھیتی باڑی گاشت کاری کیلئے بوند بوند کو پانی کیلئے ترس جاتے ہیں اور کراچی سمیت سندھ بھر کے چھوٹے بڑے شہر پینے کے پانی کو بھی ترستے ہی رہتے ہیں۔ سنہ انیس سو ستر کے بعد جب پاکستان ون یونٹ سے نکل کر چار صوبوں کی حدود میں آیا تو آج تک تعمیری و اصلاحی امور اس بابت نہیں ہوئے جس قدر ہونے چاہئے تھے البتہ طاقتور کو کمزور پر حاوی اور غنڈہ گردی کرتے ہی پایا جیسے کہ وہ انکے بھائی نہیں جانی دشمن ھوں۔ سندھ بھر میں طاقتور، بااختیار، اور دولت مندوں نے عطائی مچائی ہوئی ھے کیونکہ ریاست کی رٹ نہ ہونے سے ہر سمت عدم متوازن کا عمل جاری ھے۔ خیر میں عرض کرنا چاہتا ھوں کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے ہر چھوٹے بڑے شہروں قصبوں میں اطراف جیسے عام فہم میں رنگ روڈ بھی کہتے ہیں طویل گہری نہریں بنائیں جائیں جہاں پر موسم برسات کا پانی اسٹور کیا جائے پھر یہ پانی متعلقہ منسلک شہروں ، قصبوں ، گاؤں اور دیہات جہاں جہاں نہریں بنائی گئیں ہیں انہیں فلٹر کرکے سپلائی کیا جائے۔ مثلاً میرپورخاص شہر کو لے لیں، میرپورخاص شہر کے اطراف اسی فٹ چوڑائی اور چالیس فٹ گہرائی کیساتھ پختہ نہریں بنائی جائیں فرض کیا جائے کہ میرپورخاص شہر کی گولائی انداراً کم و بیش پچاس کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ھے۔ اس پچاس کلومیٹر میں بارش کے دنوں اس قدر پانی میسر آئیگا کہ کسی اور صوبے سے پانی کی ضرورت تک محسوس نہ ہو۔ اور اگر یہی عمل کراچی شہر کیلئے بنایا جائے تو کراچی اس قدر وسیع و عریض ہوچکا ھے کہ اسکی رنگ روڈ کی گولائی لگ بھگ کم و بیش دو سو کلو میٹر تک جاپہنچے گی اس سے سب سے زیادہ فائدہ یہ ھوگا کہ شہر بھر کی یونین کونسل و یونین کمیٹی کے نزدیک ترین پانی موجود ہوگا جسے کم قیمت کم لاگت کے ذریعے بآسانی پمپنگ اسٹیشن سے منسلک کرکے اپنے اپنے یو سی شہریوں کو پانی فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام و پروجیکٹ پیش کررھا ھوں جس سے پورا سندھ بشمول کراچی میٹھے پانی سے سیراب ہوسکتا ھے۔ امید ھے کہ سندھ حکومت میرے اس پروجیکٹ و مشورے پر ضرور بلضرور غور کریگی یاد رکھنے کی بات یہ ھے کہ سندھ کے باسی آپ کے ہی ہیں انہیں خدمت کرکے ایک جانب دعائیں سمیٹیں دوسری جانب پیار و محبت اور عقیدت کے پھول سمیٹیں۔ ذرا سمجھیں سوچیں تو یہ آپ ہی کیلئے دونوں جہاں کی کامیابی کا ثمر ہیں۔ اللہ میرے سندھ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور ہمارے سندھ کے حکمرانوں کو عصبیت، تعصب، لسانیت اور نفرت سے ہمیشہ دور رکھ کر انسانیت بھائی چارگی اخوت ایثار و قربانی جیسے دینی جذبہ سے ہمیشہ تروتازہ رکھے آمین یا رب العالمین۔