4

مختار گھمرو کی 17ویں برسی پر تقریب و مشاعرہ، نوجوانوں کو سماجی و سیاسی جدوجہد میں کردار ادا کرنے کی تلقین

مختار گھمرو کی 17ویں برسی پر تقریب و مشاعرہ، نوجوانوں کو سماجی و سیاسی جدوجہد میں کردار ادا کرنے کی تلقین

سکھر(بیورورپورٹ)جاگرتا فورم سکھر اور مختار گھمرو یادگار کمیٹی کے مشترکہ تعاون سے نامور شاعر، ادیب اور ترقی پسند دانشور مرحوم مختار گھمرو کی 17ویں برسی کے موقع پر سکھر آرٹس کونسل میں ایک پروقار تقریب اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت جاڳرتا فورم سکھر کے چیئرمین، سماجی رہنما اور سماج سُدھارک ڈاکٹر غلام رسول گھمرو نے کی۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر غلام رسول گھمرو نے کہا کہ ماضی میں سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما منظم جدوجہد کرتے تھے، جس کے باعث جاگیرداروں، وڈیروں اور بااثر طبقے میں خوف پایا جاتا تھا کہ انقلابی سیاسی کارکن ان کی قائم کردہ اجارہ داری اور استحصالی نظام کو ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو بھی موجودہ سیاسی اور سماجی حالات میں بہتری لانے کے لیے آگے آنا ہوگا اور عملی جدوجہد کا حصہ بننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مرحوم مختار گھمرو نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک ترقی پسند، روشن خیال اور انسانی اقدار پر مبنی معاشرے کی تعمیر کا پیغام دیا تھا، جس کی شمع کو مزید روشن رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ خطرناک اور پیچیدہ حالات کو بدلنے اور اس دھرتی کے محروم و مظلوم لوگوں کے حقوق کے لیے اجتماعی اور انفرادی سطح پر منظم جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈاکٹر غلام رسول گھمرو نے کہا کہ سندھ کے موجودہ حالات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہو چکے ہیں، جن کی بہتری کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر عملی میدان میں کردار ادا کرنا ہوگا۔تقریب میں خصوصی مہمانوں کے طور پر جاوید میرانی، پروفیسر سرور سیف، مختار گھمرو کے بھائی ذوالفقار گھمرو، شاہ عبداللطیف بھٹائی کے شناسا محقق انور ڈنگڑائی، معروف شاعر ڈاکٹر ادل سومرو، جاڳرتا فورم کے سرگرم رکن فیض سومرو، ممتاز ادیب امام راشدی، سندھی ادبی سنگت سکھر کے ضلعی رابطہ سیکریٹری ارشاد پیرزادہ، صادق گھمرو اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔مقررین نے مختار گھمرو کی شخصیت، ادبی خدمات اور شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری میں محنت کش طبقے، وطن دوست افراد اور سماجی انصاف کے موضوعات نمایاں طور پر موجود ہیں۔ انہوں نے سندھی زبان و ادب کے فروغ اور ترقی کے لیے بھی بھرپور خدمات انجام دیں۔ ان کی شاعری میں غربت، بھوک، محرومی اور معاشرتی ناانصافیوں کا گہرا احساس نمایاں نظر آتا ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ مختار گھمرو نے شاعری کی تقریباً تمام ادبی اصناف میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف کے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔ ان کی تخلیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں علمِ عروض، شعری بحور اور ادبی اصولوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ مختار گھمرو کی وفات کے بعد شائع ہونے والی کتابوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عہد بلکہ مستقبل کے حالات و رجحانات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔تقریب سے خطاب کرنے والوں نے کہا کہ مختار گھمرو کی شاعری ترقی پسند، انسان دوست اور وطن دوست جذبات کی بھرپور عکاس ہے اور ان کا غیر مطبوعہ ادبی سرمایہ بھی منظر عام پر لایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل ان کے افکار سے استفادہ کر سکے۔مقررین نے اس امر کو بھی سراہا کہ جاڳرتا فورم کے چیئرمین اور مرحوم کے بھائی ڈاکٹر غلام رسول گھمرو گزشتہ 17 برسوں سے مسلسل بغیر کسی تعطل کے مختار گھمرو کی برسی کی تقریبات منعقد کرتے آرہے ہیں، جو یقیناً قابلِ تحسین عمل ہے۔اس موقع پر منعقدہ مشاعرے میں ڈاکٹر ادل سومرو، سینئر صحافی و ادیب مجید نواز مغل، سمیع سجاد میرانی، شیخ ارشاد اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ جبکہ ڈاکٹر غلام رسول گھمرو اور مرحوم مختار گھمرو کے فرزند ذوالفقار گھمرو نے بھی مرحوم کی شاعری پیش کرکے سامعین کو متاثر کیا۔تقریب کے آغاز میں جاڳرتا فورم کے سینئر رکن ملک کھوسو نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر تمام مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک پیش کی گئی۔ تقریب کی نظامت جاڳرتا فورم سکھر کے سیکریٹری سچل بھٹی نے انجام دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں