4

سکھر: اوقاف کی دکان پر قبضے کی کوشش، متاثرہ خاندان کی تحفظ اور انصاف کی اپیل

سکھر: اوقاف کی دکان پر قبضے کی کوشش، متاثرہ خاندان کی تحفظ اور انصاف کی اپیل

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے بی سیکشن تھانے کی حدود میں واقع گردوارہ چوک پر اوقاف کی ملکیت دکان کے تنازع پر متاثرہ خاندان نے مبینہ قبضہ مافیا اور بااثر افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔متاثرہ افراد زبیر احمد بندھانی، عتیق الرحمن اور ان کے بیٹوں ذوہیب اور ابوذر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ کئی دہائیوں سے گردوارہ چوک پر واقع اوقاف کی دکان میں قانونی طور پر کاروبار کر رہے ہیں اور اسی سے اپنے اہل خانہ کا گزر بسر کرتے ہیں، تاہم گزشتہ پانچ برسوں سے ان کے قریبی رشتہ دار ضیاء الحق، ذوالقرنین، فیصل، شعیب اور دیگر نامعلوم افراد انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ افراد ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے سمیت مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔متاثرہ خاندان کے مطابق معاملہ عدالت میں زیر سماعت رہا جہاں عدالت نے فیصلہ ان کے حق میں دیتے ہوئے متعلقہ پراپرٹی پر ان کے قانونی حق کو تسلیم کیا اور پولیس کو انہیں تحفظ فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔زبیر احمد بندھانی نے الزام عائد کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود مخالف فریق نہ صرف مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے بلکہ حالیہ دنوں میں پولیس کی موجودگی میں حملہ آور ہو کر ان کے بیٹے کو زخمی بھی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پولیس عدالتی احکامات کے مطابق ان کی معاونت کر رہی ہے، تاہم بااثر افراد مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ دکان محکمہ اوقاف کی ملکیت ہے اور قانونی طور پر ان کے نام الاٹ ہے، لیکن مخالف فریق مبینہ طور پر کاروبار میں زبردستی حصہ طلب کر رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سرکاری پراپرٹی میں کسی غیر متعلقہ شخص کو حصہ دینا ممکن نہیں، تاہم حصہ نہ دینے کی صورت میں انہیں جھوٹے مقدمات اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔متاثرہ خاندان نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے خاندان کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں