پرنسپل پروفیسر عبدالغفور ملک کی گریڈ 19 میں ترقی ایک قابلِ فخر اعزاز
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، شعور اور تہذیبی ارتقاء کی بنیاد ہوتی ہے، جبکہ اس مقدس شعبے سے وابستہ اساتذہ کرام قوموں کے معمار کہلاتے ہیں۔ انہی باصلاحیت اور مخلص معلمین میں ایک نمایاں نام گورنمنٹ گریجویٹ کالج نورپورتھل کے پرنسپل پروفیسر عبدالغفور ملک کا ہے، جنہیں حال ہی میں گریڈ 19 میں ترقی دی گئی ہے۔ یہ ترقی نہ صرف ان کی طویل، شاندار اور مثالی تعلیمی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پورے خطے، بالخصوص نورپورتھل اور گاؤں جھرکل کے لیے باعثِ فخر اور خوشی کا موقع بھی ہے۔
پروفیسر عبدالغفور ملک کا شمار ان تعلیمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت، دیانت داری، علمی قابلیت اور انتظامی صلاحیتوں کی بدولت ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ تدریس کے شعبے سے وابستگی کے دوران انہوں نے ہمیشہ علم کی روشنی پھیلانے، طلبہ کی کردار سازی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت میں ایک بہترین استاد، کامیاب منتظم اور مخلص راہنما کی تمام خوبیاں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج نورپورتھل میں بطور پرنسپل ان کی خدمات قابلِ ستائش رہی ہیں۔ انہوں نے ادارے کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے، نظم و ضبط کو فروغ دینے اور طلبہ میں تعلیمی شعور بیدار کرنے کے لیے جو اقدامات کیے، وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی قیادت میں کالج نے نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ نظم و نسق اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
پروفیسر عبدالغفور ملک کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا خوش اخلاق اور ملنسار ہونا ہے۔ وہ اپنے ساتھی اساتذہ، طلبہ اور عام لوگوں سے انتہائی خندہ پیشانی اور محبت بھرے انداز میں پیش آتے ہیں۔ ان کی بردباری، شائستگی اور انسان دوستی نے انہیں ہر دلعزیز بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ترقی کی خبر سامنے آتے ہی عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف سے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پروفیسر عبدالغفور ملک کا تعلق تحصیل نورپورتھل کے معروف گاؤں جھرکل سے ہے۔ ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی صلاحیتوں، مسلسل محنت اور عزم کے ذریعے اس مقام تک رسائی حاصل کی۔ ان کی کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر انسان میں لگن، محنت اور خلوص موجود ہو تو وہ کسی بھی منزل کو حاصل کر سکتا ہے۔
ان کی گریڈ 19 میں ترقی دراصل ان تمام مثبت اقدار کا اعتراف ہے جو ایک مثالی استاد اور منتظم میں ہونی چاہئیں۔ یہ ترقی نوجوان اساتذہ کرام اور طلبہ کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے کہ دیانت داری، محنت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنے مقصد سے مخلص اور اپنے فرائض کے پابند ہوتے ہیں۔
آج جب ہم پروفیسر عبدالغفور ملک کی اس کامیابی پر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں تو یہ صرف ایک فرد کی ترقی نہیں بلکہ علم، محنت اور قابلیت کی فتح ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں، عزتیں اور ترقی عطا فرمائے، انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ تعلیمی میدان میں مزید خدمات انجام دینے کی توفیق دے اور ان کی صلاحیتوں سے آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوتی رہیں۔
بلاشبہ پروفیسر عبدالغفور ملک کی شخصیت اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ ایک اچھا استاد صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ کردار، شعور اور مستقبل بھی تعمیر کرتا ہے۔ ان کی حالیہ ترقی اسی روشن سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے جس پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔