خونی دروازے سے مارشل لا تک
تاریخ کبھی کبھی ایسے عجیب رشتے جوڑتی ہے کہ ایک پرانی تصویر محض تصویر نہیں رہتی، بلکہ ایک پورے عہد کی کہانی بن جاتی ہے۔جیسے ایک وجیہہ شکل وصورت رکھنے والے ہزارہ وال پٹھان سپاہی رسالدار میرداد خان کی یہ تاریخی تصویر جو1857 سے 1958 تک کا یہ سفر نوآبادیات، وفاداری اور اقتدار کے بدلتے رشتوں کی کہانی ہے۔
ہڈسنز ہارس 1857 کی جنگِ آزادی کے دوران میجر ولیم ہڈسن نے بنائی۔ اسی ہڈسن کا نام دہلی کے “خونی دروازے” کے واقعے سے جڑا ہے۔ ستمبر 1857 میں جب دہلی انگریزوں کے قبضے میں آئی تو بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں مرزا مغل، مرزا خضر سلطان اور پوتے مرزا ابو بکر کو گرفتار کر کے خونی دروازے کے قریب لایا گیا۔ ہڈسن نے انہیں قریب سے گولیاں مار کر قتل کر دیا اور لاشیں کئی گھنٹے عوامی نمائش کے لیے چھوڑ دیں تاکہ دہلی کے مسلمانوں کے دلوں میں خوف بٹھایا جا سکے
برطانوی رپورٹس نے اسے “بغاوت دبانے کا ضروری قدم” کہا، مگر برصغیر کی یادداشت میں یہ ظلم اور انتقام کی علامت بن گیا۔ رجمنٹ کا نام اسی خون کے ساتھ جڑ گیا اور برصغیر میں ہمیشہ تلخ رہا۔
رسالدار میر داد خان ہزارہ کے ایک معزز ترین خاندان سے تھے۔ وہ ہڈسنز ہارس میں بھرتی ہوئے یہ اس دور کی عام صورتحال تھی۔ نوآبادیاتی نظام نے مقامی اشرافیہ اور فوجی خاندانوں کو مراعات دے کر اپنے لیے وفادار طبقہ تیار کیا تھا۔میر داد خان جیسے افسر انگریز کے لیے وہی کردار ادا کر رہے تھے جو 1857 سے پہلے مغل شاہی فوج کے سپاہی ادا کرتے تھے—یعنی حاکم کی طاقت کو مقامی سطح پر قائم رکھنا۔ ان کی وفاداری نوکری، تنخواہ اور خاندانی روایت کا معاملہ تھی، سیاسی نظریے یا قومی غیرت کا نہیں۔
یہی تضاد ہے کہ ایک طرف رجمنٹ کا نام اس افسر سے جڑا تھا جس نے مغل شہزادوں کو قتل کیا، اور دوسری طرف اسی رجمنٹ میں مسلمان افسر انگریز کے جھنڈے تلے نوکری کر کے عزت اور مراعات کما رہے تھے۔
میر داد خان کے بیٹے محمد ایوب خان 1907 میں پیدا ہوئے۔ سینڈہرسٹ سے تربیت لے کر برطانوی ہند کی فوج میں افسر بنے، 1947 کے بعد پاک فوج میں آئے، اور 1958 میں مارشل لا نافذ کر کے پاکستان کے پہلے فوجی حکمران بنے۔ 1965 میں خود کو فیلڈ مارشل قرار دے دی محض اتفاق نہیں کہ جس رجمنٹ کا نام “خونی دروازے” کے خون سے جڑا تھا، اسی رجمنٹ کے رسالدار کا بیٹا آگے چل کر ملک کا پہلا فوجی آمر بنا۔ یہ نوآبادیاتی اداروں اور ان کی ذہنیت کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے
ایوب خان نے برطانوی فوج کی وہی نظم و ضبط، طبقاتی سوچ اور سیاسی مداخلت کی روایت اپنائی۔ نوآبادیاتی فوج کا مقصد رعایا کو قابو میں رکھنا تھا، قوم بنانا نہیں۔ جب وہی فوج نئی ریاست میں حکمران بن گئی تو اس نے بھی رعایا والی ذہنیت اپنائی۔ 1958 کا مارشل لا اسی سوچ کا نتیجہ تھا: منتخب سیاست کو ناکام قرار دے کر بندوق کے زور پر حکمرانی۔ایوب خاندان کی سیاست میں یہی بے شرمی نمایاں رہی۔ ایک طرف “بنیادی جمہوریت” کے نام پر ہزاروں کونسلروں کے ذریعے عوامی رائے کو گھیرے میں لے لیا گیا، دوسری طرف پورے ملک کو 22 خاندانوں کی معیشت کے حوالے کر دیا گیا۔ ایوب خان نے اقتدار کو ذاتی وراثت سمجھ کر اپنے بیٹے گوہر ایوب کو سیاست میں آگے لانے کی راہ ہموار کی۔ 1965 کی جنگ میں عوامی جذبات کو استعمال کیا، مگر تاشقند معاہدے پر قوم سے سچ نہ بولا گیا۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعد بھی خاندان نے فوج اور سیاست کے درمیان اپنے روابط برقرار رکھے۔ نوآبادیاتی چاکری سے شروع ہونے والا سفر فوجی آمریت، کاروباری اجارہ داری اور خاندانی سیاست میں ڈھل گیا۔ھڈسنز ہارس کی کہانی 1857 کے خون سے شروع ہو کر 1958 کے مارشل لا پر ختم ہوتی ہے۔ ایوب خان کے مارشل لا کو سمجھنے کے لیے نوآبادیاتی پس منظر زیادہ اہم ہے۔ 1950 کی دہائی کی سیاسی عدم استحکام ایک موقع تھا، مگر ذہنیت وہی تھی جو میر داد خان کو ہڈسنز ہارس میں لے گئی تھی—حاکم کی وفاداری، عوام کی نہیں۔تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو ادارے اور لوگ نوآبادیاتی غلامی میں پروان چڑھے، وہ آزادی کے بعد بھی اکثر وہی سوچ ساتھ لے آتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ جھنڈا بدل جاتا ہے، وردی بدل جاتی ہے، مگر رعایا کی جگہ عوام نہیں لے پاتی۔عوام رعایاہی رہتے ہیں
ف فاران بہ تصحیح
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ممبر قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان نے وزیراعظم پاکستان میاں
ٹھٹھ رپوٹ دعا نیوز عبدالعزیز شیخ ٹھٹھہ: گاؤں عرس جاکھرو، جام واہ، دیہہ مرکان کے رہائشی غلام قادر جاکھرو، غلام شبیر جاکھرو اور
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ڈاکٹر ایم عمر چھاپرا آج بروز اتوار 14 جون 2026 کو جدہ میں انتقال کر گئے
خونی دروازے سے مارشل لا تک
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)دوڑ کے قریب گاؤں امیر بخش وساڻ کے رہائشی بروہی برادری کے نوجوان