13

*پولیس اور متعلقہ اداروں کی لاپرواٸی

*پولیس اور متعلقہ اداروں کی لاپرواٸی سےلائیٹوں،اشاروں،بریکوں سے محروم پھٹے رہڑیوں کی شہریوں کو معذور کرنے اور جان سے ماردینے کی مہم زور و شور سے جاری*.

میلسی(محمد مختارسولگی) میلسی تحصیل بھر میں پٹرولنگ پولیس،ٹریفک پولیس اور پنجاب پولیس کے افسران و ملازمین کی لاپرواٸی کے باعث تحصیل بھر میں موٹر ساٸیکل سے بنے جوگاڑی پھٹے رہڑیاں، رکشے انتہاٸی ضروری اور اہم اسٹرومٹس جیسے لاٸیٹیں،عشارے اور بریکوں وغیرہ کے بغیر تحصیل بھر کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر بپھرے ہوٸے سانڈ کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں۔ان پھٹہ رہڑہوں کے 80 فیصد ڈراٸیورز ڈراٸیونگ کے بنیادی اصول و ضوابط اور ٹراٸیفک قوانین سے لاعلم ہیں۔جنہیں موٹر ساٸیکل سے بنی ان پھٹہ رہڑیوں کو چلانے کیلٸے بنیادی طور طریقے جیسے سڑک پر چڑھنے سے پہلے دونوں ساٸیڈوں پر دیکھنا،مڑنے سے پیلے عشارہ دینا یا أگے پیچھے دیکھ کر رہڑی موڑنا، تیز رفتاری میں اچانک بریک لگانا وغیرہ کا علم ہی نہیں ہوتا۔ روڈکنارے کھڑے کھڑے اچانک أگے پیچھے دیکھے بغیر روڈ پر أجانا، سڑک یا روڈ پرجاتے ہوٸے بغیر عشارہ دٸیے اچانک رہڑی موڑ لینے، گنجاٸیش و مقررہ وزن سے کٸی گنا زیادہ وزن لوڈ کرکے اوور سپیڈ سے چلنے یا أپس میں ریسیں وغیرہ لگاتے ہوٸے پراپر اور قابلٍ عمل بریک سسٹم کے نہ ہونیکی وجہ سے موٹر ساٸیکل پھٹہ کو بریک نہ لگا سکنے کی وجہ سے حادثہ کرلینے جیسی حرکتوں کے باعث روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو معذور کرنے،انہیں زندگی سے محروم کرنیکی مہم زور و شور سے جاری رکھے ہوٸے ہیں۔ ان غیر قانونی پھٹے رہڑیوں کے باعث ہونیوالے جانی و مالی نقصان کے اہم اور بنیادی ذمہداران میں پنجاب پولیس،پٹرولنگ پولیس و ٹریفک پولیس کے افسران و ملاز مین شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل روزانہ کی بنیاد پر جگہ جگہ چیکنگ کے باعث حادثات میں کافی حدتک کمی ہوگٸی تھی۔ متعلقہ اداروں کی غفلت، بے حسی، عوام دشمن پالیسیوں کے تسلسل، فراٸیض سے کوتاہی اور دیگر کٸی وجوہات کی بنا پر دوبارہ سے حادثات میں بے پناہ اضافہ شروع ہوگیا ہے جسکی وجہ سے تحصیل بھر کے شہریوں کی ایک بڑی تعدا معذور ہورہی ہے یا جان سے ہاتھ دھو رہی ہت۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پھٹہ رہڑیوں کو سڑکوں پر لانے سے قبل اہم اور بنیادی اجزاء جیسے لاٸیٹیں، عشارے اور پراپر بریک سسٹم انسٹال کرنیکی پابندی لگاٸی جاٸے اور ان رہڑیوں کو چلانے والے ڈراٸیوروں کو ڈراٸیونگ کے بنیادی اصول و ضوابط اور ٹریفک قوانین سے أگاہ کیا جاٸے۔ کوشش کی جاٸے کہ حکومت کے زیرٍ انتظام ڈراٸیونگ سکولوں میں انکی تربیت کا اہتمام کیا جاٸے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں