میلسی بیو رو چیف و ہا ڑ ی پاکستان کسان اتحاد کے ڈویژنل صدر حق نواز بھٹی، اور مرکزی صدر ملک ذوالفقار اعوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے کسانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس وقت ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ بجلی کے بھاری بل کسانوں اور مزدوروں پر بوجھ بن کر گر رہے ہیں۔ مزید برآں، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاشتکاری کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو وقت کی روٹی کا حصول کسان اور مزدور طبقے کے لیے ایک کڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے آئندہ بجٹ میں کسانوں کو ڈیزل، بجلی اور کھاد پر ریلیف نہ دیا تو پاکستان زرعی شعبے میں دیگر ممالک سے بہت پیچھے رہ جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں کسان دوست اقدامات کیے جائیں تاکہ کسان اپنی فصلوں کے نقصانات کا ازالہ کر سکیں۔ اس وقت گندم، مکئی اور دھان سمیت متعدد فصلوں میں کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے، اور وہ مزید نقصان برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ادارے حکومت کو کسانوں کے مسائل اور زمینی حقائق کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے حکومت تک کسانوں کی اصل مشکلات نہیں پہنچ پا رہیں۔ ہم نے کئی بار حکومت اور متعلقہ اداروں کو کسانوں کے مسائل سے آگاہ کیا، لیکن ہماری بات پر توجہ نہیں دی گئی۔ موجودہ گندم بحران بھی انہی غلط رپورٹس اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسانوں کو ڈی اے پی، یوریا، بجلی اور ڈیزل سستے نرخوں پر فراہم نہ کیے گئے تو ملک میں غربت کا ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جسے حکومت کے لیے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس موقع پر چوہدری سرفراز ، ممتاز بھٹی، جنید نواز بھٹی، زاہد ممرا ، حنیف پٹھان ، جمشید سندل، علی حیدر، اللہ وسایا بھابھا ، محمد حسین سمیت دیگر معزز شخصیات اور پاکستان کسان اتحاد کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]