شالیمار منارہ روڈ، واپڈا آفس کی گلی میں تجاوزات کی بھرمار۔
اہم سرکاری اداروں کے دفاتر تک رسائی ناممکن،
علاقہ مکین اور شہری سخت اذیت میں مبتلا
میٸر سکھر، ڈپٹی کمشنر، مونسپل کمشنر تجاوزات ختم کراٸیں۔ شہریوں کا پرزور مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)شالیمار منارہ روڈ پر واقع واپڈا آفس کی گلی میں قائم تجاوزات نے شہریوں، طلباء اور سائلین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اہم سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کی طرف جانے والے اس مرکزی راستے پر قابضین نے سرِعام قبضہ جمائے رکھا ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر اور راستہ انتہائی تنگ ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ یہ گلی ڈسٹرکٹ کورٹ، اسلامیہ کالج، مختار کار آفس اور فزیکل کالج جیسے کلیدی سرکاری و تعلیمی اداروں تک رسائی کا اہم ترین راستہ ہے۔ تاہم، مستقل تجاوزات کے سبب یہاں سے گزرنا ایک امتحان بن چکا ہے۔ سڑک کے کنارے بلاوجہ رکھے گئے بھاری فوٹو کاپیئر، فوٹو اسٹٹیٹ مشینوں کے ڈھیر اور دیگر سامان نے گزرگاہوں کو بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سارا دن ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے۔اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں خواتین، بزرگ شہری، اسکول و کالج جانے والے طلباء و طالبات اور اپنے کاموں کے سلسلے میں کورٹ و دیگر دفاتر جانے والے سائلین شامل ہیں۔ تنگ راستوں کے باعث ایمبولینس یا ہنگامی گاڑیوں کا گزرنا بھی محال ہو چکا ہے، جبکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قطاروں نے پیدل چلنے والوں کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔مقامی شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی تجاوزات کرنے والوں کے حوصلے بڑھا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ راستہ عوامی سہولت کے لیے ہے، نہ کہ کسی نجی کاروبار یا ذاتی سامان رکھنے کے لیے۔ اہلیانِ علاقہ اور متاثرین نے میٸرسکھر، ڈپٹی کمشنر سکھر، میونسپل کمشنر سکھر مونسپل کارپوریشن اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس گلی سے تمام تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ اہم ترین تعلیمی و عدالتی مراکز کی طرف جانے والے اس راستے کو کشادہ کیا جائے تاکہ شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔ شہریوں نے تنبیہ کی ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔