13

روہڑی میں دریائے سندھ کا المناک سانحہ، ڈوبنے والے تین بچوں میں سے دو کی لاشیں برآمد، ایک کی تلاش جاری

روہڑی میں دریائے سندھ کا المناک سانحہ، ڈوبنے والے تین بچوں میں سے دو کی لاشیں برآمد، ایک کی تلاش جاری

روہڑی(بیورورپورٹ)دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے ڈوب جانے والے تین کمسن بچوں میں سے دو کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ تیسرے بچے کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ افسوسناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا ہے اور علاقے کی فضا سوگوار ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق گزشتہ روز روہڑی کے مقام پر دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے تین بچے ڈوب گئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں اور غوطہ خوروں نے فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کیا، جس کے نتیجے میں 10 سالہ آفتاب کی لاش رات گئے جبکہ 8 سالہ علی حیدر کی لاش آج صبح سویرے دریا سے نکال لی گئی۔ تاہم 7 سالہ آیت کی تلاش کے لیے نیوی، ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کے غوطہ خور مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔ڈوبنے والے بچوں کی شناخت 8 سالہ علی حیدر، 10 سالہ آفتاب اور 7 سالہ آیت کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق علی حیدر اور آیت آپس میں بہن بھائی ہیں جبکہ آفتاب ان کا کزن تھا۔ تینوں بچوں کا تعلق سولنگی برادری سے بتایا جاتا ہے۔اس دلخراش سانحے کے بعد بچوں کے گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔والدین اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں جبکہ متعدد افراد پر غشی کے دورے پڑنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اہل علاقہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ سکھر انتظامیہ نے حالیہ گرمی کی شدت اور ممکنہ حادثات کے پیشِ نظر دریائے سندھ اور نہروں میں نہانے پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر سکھر ڈویژن کی جانب سے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود روہڑی کے مختلف مقامات پر روزانہ بڑی تعداد میں نوجوان اور بچے دریائے سندھ میں نہاتے نظر آتے ہیں، تاہم متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مؤثر نگرانی یا کارروائی نہیں کی جاتی۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں اور پابندی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ریسکیو حکام کے مطابق لاپتا بچی کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد اسے تلاش کر لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں