14

سکھر: گھر پر مبینہ قبضے اور جھوٹے مقدمات کے خلاف شیخ برادری کا پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر: گھر پر مبینہ قبضے اور جھوٹے مقدمات کے خلاف شیخ برادری کا پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر (بیورورپورٹ)پرانہ سکھر کے علاقے بکھر چوک کے رہائشی شیخ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے قریبی رشتہ دار کی جانب سے مبینہ طور پر گھر پر قبضہ کرنے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرے میں عبدالوحید شیخ، شہباز شیخ، اویس شیخ، شاہ محمد اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے کزن دلشاد شیخ عرف مینو تقریباً نو سال قبل جیل چلے گئے تھے، جس کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے اہل خانہ کو رہائش کے لیے اپنی جگہ فراہم کی گئی تاکہ ان کے بچوں کو سہارا مل سکے۔
مظاہرین کے مطابق دلشاد شیخ سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے واپس آئے تو انہیں کچھ عرصہ مزید مذکورہ جگہ پر رہنے دیا گیا، تاہم جب ان سے جگہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے مبینہ طور پر دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ دلشاد شیخ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’جو کرنا ہے کر لو، جگہ خالی نہیں کروں گا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے بعد انہوں نے متعلقہ تھانہ سی سیکشن میں درخواست دے کر قانونی کارروائی کی کوشش کی، تاہم پولیس نے ان کی رپورٹ درج کرنے سے گریز کیا اور فریقین کو آپس میں معاملہ حل کرنے کا مشورہ دیا۔احتجاجی مظاہرین نے پولیس پر غیر جانبداری اختیار نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس مبینہ طور پر دلشاد شیخ عرف مینو اور ان کے بیٹوں حمزہ اور اون علی کی سرپرستی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف فریق کے اثر و رسوخ کے باعث ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں مبینہ طور پر جیل بھیجنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے گھر اور زمین پر مبینہ قبضہ فوری طور پر ختم کروایا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور دلشاد شیخ عرف مینو سمیت متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لا کر انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں