پنشنرز کے حقوق کے تحفظ اور مطالبات کے حق میں وفا تنظیم کا احتجاجی اجتماع
پنشن اور میڈیکل الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ، جنکوز کے ساڑھے پانچ ہزار پنشنرز کو واپڈا میں ضم کرنے کا مطالبہ
سکھر (بیورورپورٹ)وفا تنظیم فلاح و بہبود ریٹائرڈ ملازمین پاکستان کے زیر اہتمام پنشنرز کے حقوق کے تحفظ اور ان کے دیرینہ مطالبات کے حق میں سکھر پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں ریٹائرڈ ملازمین، بیواؤں اور پنشنرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان اور بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے پیش نظر پنشن اور میڈیکل الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، جبکہ سرکاری پاور ہاؤسز (جنکوز) کے ساڑھے پانچ ہزار پنشنرز کو فوری طور پر واپڈا میں ضم کیا جائے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفا تنظیم کے سینئر نائب صدر عرفان قاضی نے کہا کہ سرکاری پاور ہاؤسز کو اسکریپ قرار دے کر فروخت کر دیا گیا اور وہاں تعینات ملازمین کو مختلف ڈسکوز میں سرپلس قرار دے کر منتقل کر دیا گیا، تاہم ان اداروں سے وابستہ ساڑھے پانچ ہزار پنشنرز کے مستقبل کے حوالے سے تاحال کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پنشنرز، بیوائیں اور یتیم شدید بے چینی کا شکار ہیں اور ان کا جائز مطالبہ ہے کہ انہیں واپڈا میں ضم کیا جائے کیونکہ یہی ان کا اصل ادارہ ہے جہاں سے انہوں نے اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈسکوز کو بھی مرحلہ وار نجکاری کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جس سے پنشنرز کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔وفا تنظیم کے چیف آرگنائزر گل حسن سیال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ادویات اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے پنشنرز کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن اور میڈیکل الاؤنس میں کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر وفا تنظیم کے جنرل سیکریٹری سلیم آرائیں نے کہا کہ گروپ لائف انشورنس پنشنرز کا بنیادی اور قانونی حق ہے، جسے مختلف عدالتیں بھی تسلیم کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قانون سازی کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے اور متعلقہ بل قومی اسمبلی میں منظوری کا منتظر ہے۔ انہوں نے حکومت اور قانون ساز اداروں سے مطالبہ کیا کہ بل کو فوری طور پر منظور کیا جائے تاکہ پنشنرز کو مالی تحفظ اور سہولت میسر آ سکے۔اجتماع کے اختتام پر وفا تنظیم کے صدر محمد اسحاق سومرو نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ مہنگائی نے ریٹائرڈ ملازمین کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے خور و نوش، بجلی، گیس اور خصوصاً ادویات کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ پنشنرز کے لیے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پنشن اور میڈیکل الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔محمد اسحاق سومرو نے مقامی سطح پر پنشنرز کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی اداروں میں پنشن کی بروقت ادائیگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور پنشنرز کو اپنی رقم کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ پنشنرز کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں۔اجتماع کے شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنشنرز، بیواؤں اور یتیموں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔بعد ازاں وفا تنظیم کا یہ احتجاجی اجتماع اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔