عہدے اور عزت کے اصل حقدار کون؟
تحریر ڈاکٹر ایم لال واگھانی صدرِ نیشنل پریس کلب سامارو
اس معاشرے کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ اکثر عزت، شہرت اور بڑے عہدے اُن لوگوں کے حصے میں آتے ہیں جنہوں نے کبھی عوام کے حق میں آواز بلند نہیں کی، جنہوں نے مظلوم کے درد کو محسوس نہیں کیا، اور جنہوں نے حق و سچ کی خاطر کوئی قربانی نہیں دی۔ دوسری جانب وہ لوگ جو دن رات عوامی مسائل کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، انصاف کی بات کرتے ہیں، اور کمزور طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ معیارِ عزت اور اہلیت کی جگہ سفارش، مفاد اور تعلقات نے لے لی ہے۔ ایسے افراد کو منصب اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے جن کا عوامی خدمت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، جبکہ حقیقی خدمت گزار خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی اُن لوگوں کے ہاتھوں ممکن ہوئی جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ اگر معاشرے میں عزت اور عہدے صرف اُن لوگوں کو ملتے رہیں گے جو خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں، تو حق اور انصاف کی آوازیں کمزور پڑ جائیں گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عزت اور منصب کے معیار کو بدلیں۔ اُن افراد کو آگے لائیں جو کردار، خدمت، دیانت داری اور عوامی فلاح کے جذبے سے سرشار ہوں۔ کیونکہ جب معاشرہ اپنے اصل ہیروز کو پہچاننا سیکھ لیتا ہے، تبھی ترقی، انصاف اور خوشحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
عہدے وقتی ہوتے ہیں، مگر عوام کی خدمت اور حق کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔