کاتی مار تھل میں آل پاکستان سگو قوم کا تاریخی اجتماع — اتحاد، شعور اور ترقی کی نئی نوید
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے افراد کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے باہمی اتحاد، اجتماعی شعور اور مشترکہ مقاصد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایک برادری اپنے مستقبل کو بہتر بنانے، نوجوان نسل کی رہنمائی کرنے اور اپنے کمزور طبقات کی دستگیری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائے تو یہ محض ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے۔ کاتی مار تھل کی سرزمین پر منعقد ہونے والا آل پاکستان سگو اتحاد کنونشن اسی روشن سوچ اور قومی بیداری کی ایک خوبصورت مثال ثابت ہوا۔
ملک محمد ایوب سگو اور ان کے رفقاء کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اس عظیم الشان کنونشن میں ملک کے مختلف علاقوں چوک میتلا، وہاڑی، لودھراں، فورٹ عباس، جھنگ اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر علاقوں سے سگو برادری کے افراد نے بھرپور شرکت کرکے یہ ثابت کیا کہ قومیں فاصلے نہیں بلکہ دلوں کے رشتے جوڑتے ہیں۔ شدید گرمی اور طویل سفری مشکلات کے باوجود شرکاء کی بڑی تعداد میں آمد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ سگو برادری اپنے اتحاد اور اجتماعی مستقبل کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔
کنونشن کے دوران مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا، وہ محض روایتی تقاریر نہیں بلکہ ایک جامع قومی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ برادری کے مسائل کا حل صرف اور صرف اتحاد، منظم جدوجہد اور باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کی کردار سازی، تعلیمی ترقی اور روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ آنے والا دور تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کا ہوگا۔
کنونشن کا سب سے اہم پہلو مشترکہ اعلامیہ تھا جس میں ملک گیر سطح پر سگو برادری کی تنظیم سازی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ یقیناً برادری کی اجتماعی طاقت کو منظم اور مؤثر بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ تحصیل نورپور تھل میں جلد تنظیم سازی مکمل کرنے اور سگو قوم کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہدایت اس بات کی عکاس ہے کہ اب یہ تحریک صرف ایک اجتماع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی اقدامات کی شکل اختیار کرے گی۔
تعلیم کے شعبے میں ایجوکیشن ونگز کے قیام کا اعلان نہایت خوش آئند ہے۔ موجودہ دور میں ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے، اور جو قومیں اپنے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرتی ہیں وہی مستقبل میں قیادت کا مقام حاصل کرتی ہیں۔ اگر اس فیصلے پر خلوص نیت اور مستقل مزاجی کے ساتھ عملدرآمد کیا گیا تو سگو برادری کے نوجوان نہ صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نمایاں ہوں گے بلکہ ملک و قوم کی خدمت میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
اسی طرح معاشی طور پر کمزور طبقات کو ہنرمندی کے ذریعے خود کفیل بنانے کا اعلان بھی دور اندیشی کی بہترین مثال ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں صرف امداد نہیں بلکہ ہنر اور روزگار کے مواقع ہی مستقل خوشحالی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ برادری کے نوجوانوں کو فنی تعلیم اور ہنر مند بنانے کی کوششیں مستقبل میں مثبت نتائج مرتب کریں گی۔
سیاسی میدان میں سگو برادری کی مؤثر نمائندگی اور سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے کے عزم نے بھی شرکاء میں نئی امید پیدا کی۔ کسی بھی برادری کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی آواز فیصلہ سازی کے ایوانوں تک پہنچے۔ اس حوالے سے جلد مشترکہ اعلان کی نوید برادری کے سیاسی شعور اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتی ہے۔
کنونشن میں ہر سال 29 مئی کو “یومِ اتحاد” منانے کے اعلان نے اس اجتماع کو مزید تاریخی بنا دیا۔ یہ دن آنے والے برسوں میں سگو برادری کے لیے اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی شعور کی علامت بن سکتا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے دن ان کے تشخص اور اجتماعی یادداشت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
بلاشبہ اس کنونشن کا سب سے خوبصورت پیغام یہ تھا کہ مشکل وقت میں سگو برادری ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی اور آپس کے اختلافات کو ختم کرکے محبت، احترام اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دے گی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو مضبوط اور ناقابلِ شکست بناتا ہے۔
آخر میں میزبان ملک محمد ایوب سگو اور ان کے ساتھی یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس تاریخی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شدید گرمی کے باوجود ملک بھر سے آنے والے قافلوں نے بھی اپنی برادری سے محبت اور وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔
کاتی مار تھل میں منعقد ہونے والے اس کنونشن میں شرکت کرنے والے ملک بھر سے قافلوں کا پرتپاک استقبال سگو برادری کےمقامی عمائدین ملک محمد ایوب سگو ، ملک مرید حسین سگو، نمبردار ملک خالق یار سگو ، ملک وقارالحسن سگو ایڈووکیٹ، ملک عبد الحمید سگو، ملک امیر قیصر سگو، سجاد حسین سگو، ملک حسنین سگو ، اعجاز حسین ساحل، ملک نصراللہ سگو ، ملک ممتاز حسین ایڈووکیٹ ، ملک سردار انعام اللہ سگو، ملک رفاقت نصیر سگو اور دیگر مقامی راہنماوں نے کیا ۔
یہ شاندار کنونشن اس حقیقت کا اعلان تھا کہ سگو قوم اپنے مستقبل کو روشن، منظم اور مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز کر چکی ہے۔ اگر یہی جذبہ، اخلاص اور اتحاد برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں سگو برادری ترقی، تعلیم، معاشی استحکام اور سیاسی شعور کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یہ اجتماع محض ایک تقریب نہیں بلکہ اتحاد، امید اور روشن مستقبل کی ایک نئی داستان ہے۔