11

ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے بطور وی سی چارج سنبھالنے کے بعد ادارے میں مثبت تبدیلیاں ائی ہے۔اساتذہ

ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے بطور وی سی چارج سنبھالنے کے بعد ادارے میں مثبت تبدیلیاں ائی ہے۔اساتذہ

یونیورسٹی کے بہتر تعلیمی ماحول اور پرسکون کمیپس کی بدولت داخلے کی شرح بڑھ رہی ہے۔اساتذہ کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلٹی ممبران اور انتظامی عہدیداران نے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ شنواری کی کارکردگی کو قابل تعریف قرار دیا۔ ان کے ڈھائی سالہ دور کو درخشاں قرار دیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے نان ایشوز کو اچھالتے ہوئے “قومی ترقی کا راز قومی زبان میں تعلیم” کے مشن کے ساتھ کھڑے’ پاکستان اور پوری اردو دنیا کی تہذیب و تاریخ کے نقیب تعلیمی ادارے کے خلاف پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا۔وفاقی جامعہ اردو اسلام آباد کے اساتذہ اور عمال کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے بطور وائس چانسلر چارج لینے کے بعد ادارے میں کئی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ جامعہ اردو کی طلبہ سمیت عوام میں عمومی رائے نہایت بہتر ہوئی ہے، کیونکہ ادارے کے اندر تعلیمی و انتظامی امور میں بہتری آئی ہے۔ اساتذہ کا ماننا ہے کہ پہلے پہل قومی میڈیا میں اردو یونیورسٹی کا تاثر کچھ خاص نہیں تھا۔ تاہم ڈاکٹر شنواری نے نہایت حسن انتظام کے ساتھ نہ صرف یونیورسٹی کے تدریسی، انصرامی و تحقیقی معاملات کو سدھارا، بلکہ ان کی مین اسٹریم میڈیا کے اندر تشہیر کا بھی انتظام کیا۔ یوں اب قومی میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اردو یونیورسٹی کا بہتر امیج ہے۔یونیورسٹی کے طلبہ کی کارکردگی کی خبریں چھپتی ہیں۔ کیمپس کے اندر تواتر کے ساتھ نصابی و ہم نصابی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ اس سے نہ صرف سٹوڈنٹس کی کارکردگی میں نکھار آیا ہے، بلکہ ادارے کی رائے عامہ کو بھی چار چاند لگ گیا ہے۔ فیکلٹی ممبران کے مطابق شیخ الجامعہ نے یونیورسٹی کے ڈیجیٹل نیوز چینل “پہل” کی نشریات کی نہ صرف اجازت عطا کی، بلکہ وقتا فوقتاً حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔ اور اسی پلیٹ فارم سے قوم کے نوجوان میڈیا کی عملی تربیت پاتے ہوئے اچھے سیلری پیکج پر بڑے میڈیا اداروں میں ملازمت حاصل کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ایڈمیشن کمپئن سمیت جامعہ میں منعقد ہونے والی سرگرمیوں اور ایونٹس کی پروفیشنل انداز میں کوریج ہوتی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے آنے کے بعد ہی اسلام آباد کیمپس کا اولین رسالہ “پہل” اور سہہ ماہی اخبار “دیپ” کا شعبہ ماس کمیونیکیشن سے اجراء ہوا۔ یہ مجلہ اور اخبار تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ سٹوڈنٹس پروفیشنل ٹریننگ یونیورسٹی کے اندر ہی لے رہے ہیں۔شیخ الجامعہ نے تحقیق کے باب میں بھی حوصلہ افزائی کی۔اسلام آباد کیمپس سے جاری ہونے والے ریسرچ جرنلز اب باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ عالمی حالات پر دقیق مضامین سے مزین مجلہ “پولیٹیکل وسٹا” اب شعبہ آئی آر اسلام آباد سے باقاعدگی اور تواتر کے ساتھ نکل رہا ہے۔
بعض اساتذہ نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر ضابطہ شنواری کے دور میں “سیرت چیئر” جیسا متبرک پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا۔ سیرت چیئر کے تحت ہر مہینے رسالت مآب صلی علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پاک کے مختلف پہلوؤں پر سیمینارز منعقد ہوتے ہیں۔پاکستان اور بیرون ممالک سے بھی علماء، مذہبی اسکالرز لیکچر دیتے آتے ہیں۔دریں اثنا سٹوڈنٹس کے مابین نعت خوانی اور تقریری مقابلے بھی اب معمول کی بات ہے۔ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے ویژن کی عکاسی ہے کہ مختلف ملکوں کی جامعات کے ساتھ نہ صرف یاد داشتوں ہر دستخط ہوئے’ بلکہ سٹوڈنٹس ایکسچینج اور کانفرنسز کا عملی انعقاد بھی ہو رہا ہے۔ حال ہی میں روس کے شہر کازان میں اردو یونیورسٹی کی میزبانی میں انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس سے روس اور باقی ملکوں میں تحقیقی کے باب میں پاکستان کا نہایت اچھا تاثر گیا۔ حکومتی وزراء، پاکستان اور روس کے سفراء سمیت مختلف ملکوں کے پروفیسرز، اسکالرز اور طلبہ نے پیپرز پیش کئے۔ پاکستان سے 30 کے قریب مندوبین اردو یونیورسٹی کی چھتری تلے کانفرس میں شرکت کیلئے روس گئے، جن میں وائس چانسلر لیول کے ریسرچرز بھی شامل تھے۔جامعہ اردو سے 6 اساتذہ نے روس میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔ روس اور پولینڈ میں اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو ایکسچینج پروگرام اور دیگر پروگرامز کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔ بعض طلبہ جا چکے ہیں۔ عالمی سطح کی کانفرنسز آگے بھی شیڈولڈ ہیں۔جب فلسطین پر اسرائیل مظالم ڈھال رہا تھا، انہی ایام میں پاکستان میں فلسطین کے سفیر زبیر محمد حمداللہ زید اردو یونیورسٹی آئے۔ طلبہ اور ان کے والدین کے ہاتھ چومتے ہوئے پاکستان کا فلسطینی عوام کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ دریں اثنا پاکستان فارمیسی کونسل سے باقاعدہ این او سی حاصل کرتے ہوئے اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں علم الادویات کا ڈیپارٹمنٹ نہایت کامیابی کے ساتھ شروع کیا ہے۔ فارمیسی ڈیپارٹمنٹ میں ایڈمیشن کی شرح کا یہ حال ہے کہ مقررہ نشستیں پوری ہونے کے بعد سینکڑوں امیدواروں کو ارمان لیکر واپس جانا پڑ رہا ہے۔ اب بائیو ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ بھی کھولا جا رہا ہے۔ اکنامکس سمیت بعض ڈیپارٹمنٹ میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے پروگرام شروع کیے گیے ہیں۔ انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل پروگرام کا این او سی حاصل کرتے ہوئے داخلے کا اشتہار دیا گیا ہے۔قرشی کلینک کا قیام اردو یونیورسٹی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ قرشی فاؤنڈیشن کے تعاون سے قائم اس دوا خانے سے نہ صرف طلبہ اور اساتذہ بلکہ قرب و جوار کے عوام بھی مفت علاج اور ادویات کی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کلینک فارمیسی جیسے ڈیپارٹمنٹ کیلئے عملی تجربہ گاہ بھی ثابت ہو گا۔
دوسری جانب فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے عمال نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ سولر پینل پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اب یونیورسٹی کو بجلی کے بلوں کی مد میں بچت ہو گی۔ شیخ الجامعہ نے اسلام آباد سمیت تینوں کیمپسز میں جانفشانی اور دلچسپی کے ساتھ سولر پینل لگوائے تھے۔
اساتذہ اور عمال کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے بہتر تعلیمی ماحول اور پُرسکون کیمپس کی بدولت داخلے کی شرح بڑھ رہی ہے۔ نئے ڈیپارٹمنٹ کا قیام اور ایڈمیشن کا بڑھنا شیخ الجامعہ کے ویژن کی عکاسی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری یونیورسٹی کو تعلیم و تحقیق کے میدان میں مزید آگے لیکر جائیں گے۔ جو مسائل ہیں وہ جلد حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ تاہم چھوٹے موٹے مسائل اور خاص کر کچھ نان ایشوز کو لیکر اس مادر علمی اور شیخ الجامعہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا قابل مذمت ہے۔ اردو یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور انتظامی عہدیداران وائس چانسلر کی کارکردگی اور ان کے ویژن سے مطمئن ہیں۔ اردو یونیورسٹی کے خلاف پروپیگنڈہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کے مترادف ہے۔ مڈل کلاس کے نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل سے کھیلنے کے برابر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں